
کیا تحریک انصاف 4 اکتوبر کو اسلام آباد کا رخ کرنے جا رہی ہے یا سیاسی بساط پر کوئی نیا سرپرائز تیار ہو رہا ہے؟ پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کے تازہ بیانات نے سیاسی درجہ حرارت اچانک بڑھا دیا ہے۔ ایک طرف انہوں نے واضح کیا ہے کہ کوشش ہوگی کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر سے آگے نہ جائے، لیکن ساتھ ہی یہ معمہ بھی چھوڑ دیا کہ کب اور کیسے نکلنا ہے، اس کا حتمی فیصلہ صرف اور صرف پارٹی قیادت کرے گی۔ اراکین اسمبلی، عوام اور اتحادیوں سے طویل مشاورت کے بعد بظاہر اکثریت مارچ کو آگے بڑھانے پر متفق ہو چکی ہے۔ محمود خان اچکزئی کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا ہے، مگر اصل سسپنس اس سوال نے کھڑا کر دیا ہے کہ "جب نکلے بغیر ہی حکومت تک پیغام پہنچ چکا ہے، تو پھر نکلنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟" جنید اکبر کے مطابق حکومت اس قدر خوفزدہ تھی کہ تاریخ میں پہلی بار رینجرز اور فوج کی ایسی بے مثال تعیناتی دیکھنے میں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو بلاوجہ 7 دن تک نہیں تھکانا چاہتے تھے کیونکہ ان کا مقصد اسلام آباد پر قبضہ نہیں بلکہ آئین کی بالادستی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ جیسے ہی ادارے آئینی حدود میں رہیں گے اور عدالتیں آزاد ہوں گی، بانی پی ٹی آئی کے تمام کیسز ایک جھٹکے میں ختم ہو جائیں گے۔ اب سب کی نظریں قیادت کے اگلے قدم پر ہیں کہ کیا 4 اکتوبر کو دارالحکومت میں سیاسی طوفان دستک دینے والا ہے یا کہانی کوئی نیا رخ اختیار کرے گی۔
News Source: Express News