
2016 کا وہ ہولناک دن جب ایک ویڈیو نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جب زمین پر زخمی اور بے بس پڑے ایک فلسطینی نوجوان کو انتہائی قریب سے گولی مار دی گئی۔ یہ واردات مقبوضہ الخلیل میں اسرائیلی فوجی ایلور عزاریہ کے ہاتھوں انجام پائی تھی، جس نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کی آگ بھڑکا دی۔ برسوں گزر گئے، لیکن انصاف کی اس کہانی میں اب ایک ایسا غیر متوقع موڑ آ گیا ہے جس نے سب کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قیادت کی شدید مخالفت اور اس مؤقف کے باوجود کہ عزاریہ نے اپنے کیے پر کوئی سچی پشیمانی ظاہر نہیں کی، اقتدار کے ایوانوں نے خاموشی سے منظرنامہ ہی بدل دیا۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے 19 ستمبر کو سابق فوجی کو صدارتی معافی دیتے ہوئے اس کا مجرمانہ ریکارڈ ختم کرنے کی درخواست منظور کر لی۔ صدارتی دفتر نے اس فیصلے کا جواز وقت کے گزرنے اور نام نہاد ندامت کو قرار دیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ 24 ستمبر کو وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے دستخط ہوتے ہی، عبدالفتاح الشریف کے قتل کا داغ عزاریہ کے دامن سے کاغذی طور پر ہمیشہ کے لیے مٹا دیا گیا۔ 18 ماہ کی قید میں سے محض نو ماہ کاٹ کر 2018 میں رہا ہونے والا یہ سابق اہلکار اب تمام قانونی سزاؤں اور مجرمانہ ریکارڈ سے مکمل طور پر پاک ہو چکا ہے۔ کیمرے کے سامنے دم توڑتے ایک بے بس انسان کے خون کا حساب، بالآخر صدارتی قلم کی ایک ہی جنبش میں دفن کر دیا گیا۔
News Source: Express News