
اسلام آباد کے ایوانوں پر چھائی بے یقینی اور پی ٹی آئی کا ممکنہ سرپرائز! تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے لانگ مارچ کے حوالے سے نیا سسپنس پیدا کر دیا۔ پروگرام ’سینٹر اسٹیج‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اشارہ دیا کہ کوشش تو یہی ہے کہ لانگ مارچ 4 اکتوبر سے آگے نہ جائے، مگر حتمی فیصلہ، وقت اور طریقہ کار کیا ہوگا؟ یہ پتے صرف پی ٹی آئی کی قیادت ہی شو کرے گی کیونکہ وہ اپنے فیصلوں میں مکمل بااختیار ہے۔ جنید اکبر کا کہنا تھا کہ ارکان پارلیمنٹ اور عوام سے تفصیلی مشاورت مکمل ہو چکی ہے جس میں اکثریت نے پیش قدمی کی تائید کی۔ محمود خان اچکزئی پہلے متفق نہ تھے مگر بعد میں انہیں راضی کر لیا گیا، جبکہ مولانا کو بھی اعتماد میں لینا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا مقصد اسلام آباد پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ آئین کی بالادستی قائم کرنا ہے۔ حکومتی صفوں میں پھیلی کھلبلی کا پردہ چاک کرتے ہوئے جنید اکبر نے سنسنی خیز سوال داغا کہ ہمارے نکلے بغیر ہی حکومت کے ہاتھ پاؤں کیوں پھول گئے؟ اگر ہماری تیاری نہیں تھی تو پھر ملکی تاریخ میں پہلی بار پولیس، رینجرز اور فوج کا اتنا بڑا پہرہ کس کے خوف سے لگایا گیا؟ جب ہمارا پیغام سڑکوں پر آئے بغیر ہی نشانے پر لگ گیا تو کارکنوں کو خوامخواہ تھکانے کی کیا ضرورت تھی۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات بے بنیاد ہیں اور عدالتوں میں جاتے ہی ہوا میں اڑ جائیں گے۔ جیسے ہی ادارے آئینی حدود میں واپس آئیں گے اور عدالتیں آزاد ہوں گی، قانون کی حکمرانی کے ساتھ ہی تمام کیسز خود بخود دم توڑ جائیں گے۔
News Source: Express News