
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامہ خیز ماحول کے درمیان، خطے کے مستقبل سے جڑا ایک اہم سفارتی موڑ سامنے آ گیا ہے۔ شدید کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے اس نازک موڑ پر، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کی کھل کر غیر معمولی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ دنیا کے اس اعصاب شکن مرحلے پر سعودی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ خلیجی خطے کا بحران اب محض علاقائی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی توانائی، بین الاقوامی تجارت اور سپلائی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جہاں بحری گزرگاہوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ پاکستان کی قیادت میں امریکا اور ایران کے مابین رابطے ہوں یا قطر کے ساتھ وسیع تر سفارت کاری، خطے کا امن اب ان ہی نازک کوششوں سے وابستہ ہے۔ سب سے سنسنی خیز پیش رفت نیویارک ہی میں اُس وقت ہوئی جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ کی مکہ معاہدے کے تحت ایک اہم بیٹھک ہوئی، جس میں بحری راستوں کی سلامتی اور بحرانوں کے حل کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا گیا۔ سعودی وزیر خارجہ نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو دو ٹوک مسترد کرتے ہوئے یمن سمیت پورے خطے کی سلامتی کے لیے سفارت کاری کو ہی ناگزیر راستہ قرار دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان، قطر، سعودی عرب اور ترکی کا یہ سفارتی گٹھ جوڑ مشرق وسطیٰ کو کسی بڑی جنگ کے خطرے سے بچانے میں کامیاب ہو سکے گا؟
News Source: Express News