امریکا کے ساتھ جنگ کیلئے تیار ہیں لیکن سفارتکاری کی کوشش کر رہے ہیں، عباس عراقچی

News Image

دنیا کی نظریں اس وقت واشنگٹن اور تہران پر ٹکی ہیں جہاں ایک طرف امن کی نازک امید ہے تو دوسری جانب ہولناک تباہی کا خطرہ۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک سنسنی خیز انٹرویو میں واضح کر دیا ہے کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت حتیٰ کہ ایک قیامت خیز جنگ کا سامنا کرنے کے لیے بھی مکمل تیار ہے، مگر اس سب کے باوجود سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔ انہوں نے فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کورٹ میں پھینکتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اب انتخاب امریکا کو کرنا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے یا تصادم۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی وفد نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے پردے کے پیچھے سفارت کاری کا ہر ممکن راستہ آزمایا۔ تہران اس شرط پر راستہ کھولنے کو تیار تھا کہ اس کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جائے، جو پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں طے پانے والے مفاہمتی سمجھوتے کا ہی حصہ تھیں۔ لیکن اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے سرعام بدترین حملوں کی دھمکی دے ڈالی۔ پراسرار امر یہ ہے کہ اتنے سخت بیانات کے باوجود ایران کو ثالثوں کے ذریعے سرکاری سطح پر تاحال کوئی باضابطہ انکار موصول نہیں ہوا۔ ایران نے امریکا کے وسط مدتی انتخابات کی پروا کیے بغیر واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ تہران عسکری، معاشی اور سفارتی محاذوں پر اپنی طاقت ثابت کر چکا ہے، اور اب گیند مکمل طور پر امریکا کے کورٹ میں ہے۔ کیا ٹرمپ دھمکیوں سے پیچھے ہٹ کر مذاکرات کی میز پر آئیں گے یا دنیا مشرق وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ کے شعلے بھڑکتے دیکھے گی؟ اس سوال کا جواب اب آنے والے چند دن ہی طے کریں گے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی