
نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے اندر جب بھارتی وزیر خارجہ تقریر کے لیے ڈائس پر پہنچے، تو باہر کا منظر اچانک ایک ڈرامائی موڑ لے چکا تھا اور پورا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ ہفتہ، 26 ستمبر کو ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم اور نیویارک و واشنگٹن کی کشمیری امریکی کمیونٹیز کے زیرِ اہتمام یو این پلازہ کے باہر اچانک ایک زبردست احتجاج شروع ہو گیا۔ خواتین، بچوں اور بزرگوں پر مشتمل ایک بڑا ہجوم پلے کارڈز تھامے عالمی ادارے کی دہلیز پر امڈ آیا اور فضا حقِ خودارادیت کے پرزور نعروں سے گونج اٹھی۔ "اقوام متحدہ سے ایک پکار" کے عنوان سے ہونے والے اس احتجاج نے عالمی سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ مظاہرین نے کڑا سوال اٹھایا کہ سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود بھارتی وزیر خارجہ کو یہ باوقار فورم کیسے دیا گیا؟ کشمیری رہنماؤں نے اقوام متحدہ کو اس کے پرانے وعدے اور قراردادیں یاد دلاتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ اب مصلحت پسندی نہیں بلکہ انصاف کی بات کرنی ہوگی۔ تناؤ سے بھرپور اس احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کو ایک باضابطہ یادداشت تھما دی، جس میں فوری سفارتی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا عالمی ادارہ کشمیریوں کی اس پکار پر دہائیوں پرانی خاموشی توڑے گا یا یہ احتجاج محض ایک اور سفارتی ہلچل بن کر رہ جائے گا۔
News Source: Express News