آبنائے ہرمز کب کھلے گی؟ ایران نے فیصلہ اپنی شرائط سے مشروط کردیا

News Image

آبنائے ہرمز کھلے گی یا دنیا ایک نئے اور سنگین بحران کی لپیٹ میں آئے گی؟ تہران نے گیند واشنگٹن کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اس اہم ترین سمندری گزرگاہ کی بحالی کا دارومدار صرف اور صرف ایران کی طے کردہ شرائط پر ہے۔ ثالثوں کے ذریعے تہران کی شرائط اور سفارتی تجاویز امریکی حکام تک پہنچائی جا چکی ہیں، مگر تجسس بدستور برقرار ہے کیونکہ امریکا کا حتمی اور باضابطہ مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔ عراقچی کے مطابق ایرانی قیادت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ابتدائی بیانات سے آگاہ ہے، لیکن تہران کا اگلا قدم واشنگٹن کے باضابطہ جواب پر منحصر ہوگا۔ ایران نے ایک ہفتے کی شرط رکھ دی ہے؛ اگر ضروری مطالبات پورے ہوئے تو محض سات دنوں کے اندر بحری آمدورفت بحال کر کے مذاکرات کی میز سجائی جا سکتی ہے۔ فوجی، سفارتی اور معاشی محاذ پر اپنی طاقت ثابت کرنے کے بعد تہران نے پرامن، منصفانہ اور باعزت حل کی پیشکش تو کر دی ہے، مگر اب سب کی نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ کیا امریکا یہ شرائط تسلیم کرے گا یا خطہ کسی بڑی آزمائش کی طرف بڑھے گا۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی