
پاک افغان سرحد پر ایک بار پھر پراسرار کشیدگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ افغان طالبان حکومت نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی سرحد سے صوبہ نورستان میں داخل ہونے والے ایک مسلح گروہ سے جھڑپ میں 28 جنگجو مارے گئے، جن میں داعش اور سابق افغان فورسز کے اہلکار شامل تھے۔ لیکن کیا یہ کہانی اتنی ہی سیدھی ہے جتنی دکھائی جا رہی ہے؟ پاکستان نے ان سنسنی خیز الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کابل کے دعوؤں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ نورستان کے پراسرار واقعات یا افغانستان کی اندرونی چپقلش سے پاکستان کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ نہ تو داعش جیسی تنظیموں کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور نہ ہی سابق افغان اہلکاروں کی کوئی خفیہ بھرتی یا تربیت ہو رہی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ان سنگین الزامات کے حق میں کابل کی جانب سے اب تک کوئی قابلِ تصدیق ثبوت، دستاویز، مواصلاتی ریکارڈ یا فرانزک شواہد سامنے نہیں لائے جا سکے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی مبینہ ویڈیوز بھی پاکستان کا کوئی تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس خود افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کی گواہی دے رہی ہیں، جو علاقائی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔ پاکستان نے سوال اٹھایا ہے کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والی عبوری حکومت الٹا پاکستان پر انگلیاں کیوں اٹھا رہی ہے؟ وزارتِ اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت اپنی داخلی ناکامیوں، اندرونی مخالفت اور خواتین، بچوں و اقلیتوں پر مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے الزامات کا کھیل کھیل رہی ہے۔ طالبان کو الزام تراشی کے بجائے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ پورا کرنا ہوگا۔
News Source: Express News