کپاس کی پیداوار میں تشویشناک حد تک کمی، اربوں ڈالر کی درآمد ضروری ہوگئی

News Image

کیا پاکستان کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کے دہانے پر پہنچ چکی ہے؟ ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے ایک ایسے ہولناک معاشی طوفان کا انتباہ دیا ہے جو ملکی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کی رپورٹ نے خطرے کے سنگین سائرن بجا دیے ہیں۔ سال 2026-2027 میں کپاس کی پیداوار کا ہدف 9.6 ملین بیلز تھا، مگر پیداوار گر کر محض 4.9 ملین بیلز تک محدود رہنے کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف ہماری مقامی اسپننگ انڈسٹری کو اپنی بقا کے لیے سالانہ 10 ملین بیلز کی ضرورت ہے۔ نتیجہ؟ ملک کو 5 ملین بیلز سے زائد کپاس درآمد کرنا پڑے گی، جس کی قیمت کم و بیش 2 ارب ڈالر یعنی 600 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ خطیر رقم پاکستانی کسانوں کو خوشحال کرنے کے بجائے غیر ملکی کسانوں کی جیبوں میں چلی جائے گی، اور پہلے سے سسکتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر پر 2 ارب ڈالر کا کاری وار لگے گا۔ یہ بحران راتوں رات پیدا نہیں ہوا۔ اعداد و شمار ایک خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں؛ مالی سال 2023-24 میں پیداوار 7 ملین بیلز اور درآمدات 3.2 ملین بیلز تھیں، لیکن 2024-25 میں پیداوار گر کر 5 ملین بیلز پر آ گئی جبکہ درآمدات کا حجم بڑھ کر 6.1 ملین بیلز تک جا پہنچا۔ مالی سال 2025-26 میں بھی پیداوار بمشکل 5.6 ملین بیلز رہی اور 6 ملین بیلز باہر سے منگوائی گئیں۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران کپاس کے زیر کاشت رقبے میں 33 فیصد کی ہوش ربا کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں پاکستان کا جی ڈی پی 452 ارب ڈالر اور برآمدات 30 ارب ڈالر کی سطح پر منجمد ہو کر رہ گئیں، جبکہ ہر سال ملک میں 60 سے 70 لاکھ نئے افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، یعنی ہر سال ایک نیا سنگاپور جنم لے رہا ہے۔ صنعتوں پر ستم یہ کہ علاقائی سطح پر پاکستان میں پیداواری لاگت سب سے زیادہ ہو چکی ہے۔ پڑوسی ممالک میں صنعتیں 8 سینٹ فی یونٹ بجلی پر دوڑ رہی ہیں، جبکہ پاکستانی انڈسٹری کو 14 سینٹ فی یونٹ، فکسڈ چارجز اور بے تحاشا ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے برملا کہا کہ کاٹن زونز میں شوگر ملوں کی اجازت دینا ایک تاریخی اور اسٹریٹجک غلطی تھی، جس نے سفید سونے کی پیداوار کو ناقابل تلافی زک پہنچائی۔ پی سی جی اے کے مطالبات اور 'کپاس اگاؤ، معیشت بچاؤ' مہم کی مکمل حمایت کرتے ہوئے انہوں نے الٹی میٹم دیا ہے کہ کاٹن زونز سے شوگر ملوں کو فوری منتقل کیا جائے، کپاس، بنولہ اور کاٹن سیڈ کیک پر عائد سیلز ٹیکس اور بجلی کے فکسڈ چارجز کا فوری خاتمہ کیا جائے، جننگ سیکٹر کو صنعتی اسٹیٹس دے کر مسابقتی نرخوں پر گیس و بجلی دی جائے اور کاٹن کنٹرول ایکٹ پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ معیاری بیج اور محفوظ فصل بحال ہو سکے۔ انہوں نے انتہائی سنگین وارننگ دی کہ اگر حکومت نے کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے موافق بیج اور انڈسٹری کو فوری ریلیف نہ دیا تو عالمی منڈی میں پاکستان کا بچا کھچا حصہ بھی چھن جائے گا، اور ملک میں بے روزگاری کا ایک ایسا خوفناک طوفان اٹھے گا جسے روکنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی