
کیا حکومت جماعت اسلامی کے متوقع عوامی طوفان کو روک پائے گی؟ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم کی وطن واپسی سے مشروط ایک بڑا الٹی میٹم جاری کر کے سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی ہے۔ لاہور کے کامیاب پاور شو کے بعد اب احتجاج کا دائرہ چارسدہ، صوابی، ساہیوال، سرگودھا، لاڑکانہ، کرک اور کراچی تک پھیلایا جا رہا ہے۔ منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے دو ٹوک اعلان کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر دستخطی مہم کا بگل بجا دیا گیا ہے، اور اگر وزیراعظم نے وطن واپسی پر لیوی ختم نہ کی تو اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ شروع ہوگا۔ انہوں نے پردہ چاک کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئی ایم ایف معاہدے میں پیٹرولیم لیوی کی کوئی شرط موجود ہی نہیں۔ حکمران عوام کو نچوڑنے کے بجائے 1300 سی سی گاڑیاں استعمال کر کے اپنے شاہانہ اخراجات کم کریں، سود ختم کریں اور اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی محکموں کی فنڈنگ بند کریں۔ انہوں نے عوامی مسائل پر خاموش رہنے والی دیگر سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیراعظم کے دورۂ اقوام متحدہ پر سوالات اٹھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس عالمی فورم پر مقبوضہ کشمیر، یاسین ملک سمیت اسیر رہنماؤں اور فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی کھل کر مذمت نہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج کے خطرے پر خبردار کرتے ہوئے انہوں نے پی ٹی آئی کے پرامن احتجاج کو آئینی حق قرار دیا، جبکہ عدلیہ کو بھی کٹہرے میں لاتے ہوئے کہا کہ ججز تمام مراعات لینے کے باوجود عام آدمی کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کی واپسی اس عوامی طوفان کو روک سکے گی یا پھر ملک ایک بڑے لانگ مارچ کی لپیٹ میں آنے والا ہے؟
News Source: Express News