
ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک ایسا سخت بیان سامنے آ گیا ہے جس نے حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ "پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا ہر شخص دہشت گرد ہے، لیکن اس جنگ میں شہید ہونے والوں کے سروں کا سودا کون کر رہا ہے؟ یہ اب کوئی راز نہیں رہا!" سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی رہائش گاہ پر دھواں دھار پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے درازندہ دہشت گردی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے لرزہ خیز پردہ فاش کیا۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ جب خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا تو ہم چیخ رہے تھے، آج اسی غفلت کی قیمت ہمارے معصوم بچے، جوان اور پاک فوج کے جانباز اپنی جانوں کے نذرانے دے کر چکا رہے ہیں۔ دوسری طرف مسلط شدہ ٹولہ ہمارے ہی صوبے کے عوام کو دہشت گرد قرار دینے کی سازش کر رہا ہے، جبکہ ہم نے امن کے قیام کے لیے پولیس کو 35 ارب روپے دیے۔ معاملہ یہیں نہیں رکا، وزیراعلیٰ نے وفاق پر سنسنی خیز الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ رقم ادا کرنے کے باوجود ہمیں بکتر بند گاڑیاں فراہم نہیں کی جا رہیں۔ "ہمارا صوبہ زخمی ہے، روز جنازے ہم اٹھا رہے ہیں اور وفاق اپنے لیے جہاز خرید رہا ہے!" انہوں نے دو ٹوک واضح کیا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات اب حکومت کے قابو سے باہر ہو چکے ہیں، اور بند کمروں میں کی گئی پالیسیاں اب نہیں چلیں گی۔ اس اہم ترین پریس کانفرنس سے قبل، دونوں رہنماؤں کے درمیان بند کمرے میں انتہائی اہم امور پر سر جوڑ کر مشاورت ہوئی۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ڈیرہ پہنچ کر درازندہ دھماکے میں خون میں لت پت ہونے والے زخمیوں کی عیادت کی اور لہر کی بھینٹ چڑھنے والوں کے لیے شہید پیکیج کا فوری اعلان کیا۔
News Source: Express News