وزیر اعظم کی خصوصی توجہ، ملکی برآمدات بڑھ کر 30.139 ارب ڈالر کی سطح پر آ گئیں

News Image

برآمد کنندگان حکومتی اشتراک سے برآمدات بڑھاتے ہوئے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے، روزگار کے نئے وسیع مواقع پیدا کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہیں۔ ملکی برآمدات سال 2015-16 کے 20.787 ارب ڈالر کے مقابلے میں سال 2025-26 میں بڑھ کر 30.139 ارب ڈالر کی سطح پر آ گئی ہیں، جو برآمدات میں 45 فیصد نمو کو ظاہر کرتی ہے۔ آل پاکستان ایکسپورٹرز ایسوسی ایشنز فورم کے چیف کوآرڈینیٹر جاوید بلوانی نے کہا ہے کہ برآمد کنندگان کی جانب سے وزیر اعظم کی برآمدات میں اضافے پر خصوصی توجہ کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم اور برآمد کنندگان کے درمیان باقاعدہ مشاورتی اجلاس صنعتی مسائل کے حل اور پاکستان کی برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہیں۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت باقاعدگی کے ساتھ مشاورتی اجلاسوں کے انعقاد کو برآمد کنندگان سراہتے ہیں، برآمدات اور صنعتی ترقی وزیر اعظم شہباز شریف کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ جاوید بلوانی نے کہا کہ وزیر اعظم نے اسٹاک مارکیٹ کے خطاب میں بعض مخصوص برآمدی شعبوں کی مطلوبہ کارکردگی نہ ہونے کا ذکر کیا تھا، تاہم میڈیا میں چلنے والی خبروں سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ پاکستان کی پوری برآمدی صنعت برآمدات بڑھانے میں ناکام رہی ہے، جو ملک کے مجموعی برآمدی شعبے کی کارکردگی کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ وزیر اعظم نے ہمیشہ برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کو ترجیح دی ہے اور برآمدی صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باقاعدگی سے اجلاسوں کی صدارت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے برآمدات میں اضافے، معیار کو بہتر بنانے اور صنعتی مسابقت کو مضبوط بنانے پر زور دینا اہم پالیسی ترجیح ہے۔ برآمد کنندگان بھی اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان کو مزید برآمدات، زیادہ سرمایہ کاری، زیادہ ویلیو ایڈیشن اور عالمی منڈیوں میں بہتر مسابقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے برآمد کنندگان کے ساتھ وزیر اعظم کے مسلسل رابطے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اور برآمد کنندگان کے درمیان باقاعدہ مشاورتی اجلاس صنعتی مسائل کے حل اور پاکستان کی برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہیں۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم

⚡
YourBolt AI
✖
Assalam o Alaikum! Main YourBolt AI hoon. Kuch bhi poochein — Roman Urdu mein jawab dunga.