
ناروے کی پارلیمان نے امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ سیاست دانوں اور سفارت کاروں کے مبینہ روابط کی تحقیقات کے لیے عوامی سماعتوں کا آغاز کر دیا۔ پارلیمانی کمیٹی نے موجودہ اور سابق وزرائے خارجہ سمیت گیارہ اہم شخصیات کو طلب کیا ہے۔ ان میں موجودہ وزیر اعظم جوناس گار ستورے بھی شامل ہیں، جو دو ہزار پانچ سے دو ہزار بارہ تک ناروے کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ وزیر اعظم ستورے نے سماعت کے دوران کہا کہ ان کا ایپسٹین سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کے مطابق سامنے آنے والے مسائل وزارت خارجہ کے پورے نظام کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ چند افراد کے اقدامات سے متعلق ہیں۔ وزیر اعظم ستورے نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق ایپسٹین نے ناروے کی خارجہ پالیسی، ترقیاتی امداد یا حکومت کے کسی فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔ ستورے نے یہ بھی کہا کہ حکومتی اداروں میں مفادات کے ٹکراو سے متعلق قواعد کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ تحقیقات میں سابق وزیر خارجہ بورگے برینڈے بھی پیش ہوں گے۔ ایپسٹین کے ساتھ قریبی تعلقات کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد برینڈے نے عالمی اقتصادی فورم کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ دو ہزار اٹھارہ میں ایپسٹین سے پہلی ملاقات کے وقت وہ اس کے ماضی اور جرائم سے واقف نہیں تھے۔ ناروے کے سابق وزیر برائے عالمی ترقی ایرک سولہائم نے تحقیقات کا خیرمقدم کیا تاہم خبردار کیا کہ اس معاملے کے باعث سفارت کار مستقبل میں جنگ زدہ فریقوں سے رابطے کرنے سے گریز نہ کریں۔ کچھ دیگر معروف نارویجن شخصیات بھی ایپسٹین سے روابط کے معاملے میں پولیس تحقیقات کی زد میں ہیں۔ ان میں سابق وزیر اعظم تھوربیورن یاگلاند، سابق وزیر تیری رود لارسن اور سابق سفارت کار مونا یول شامل ہیں، جو کسی بھی غیر قانونی اقدام کی تردید کر چکے ہیں۔ پارلیمان نے اس معاملے کی مزید جامع تحقیقات کے لیے ماہرین تعلیم اور قانونی ماہرین پر مشتمل ایک آزاد کمیشن بھی قائم کیا ہے جو ناروے کی تین دہائیوں سے زائد سفارتی تاریخ کا جائزہ لے گا۔ کمیشن سے اپنی رپورٹ دو ہزار اٹھارہ کے آغاز میں پیش کرنے کی توقع ہے۔
News Source: Express News