-->

پاکستانی ڈویلپر نے تمام سرکاری خدمات کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس سرچ ٹول تیار کر لیا

News Image

ایک پاکستانی ڈویلپر نے "آسک پاکستان" کے نام سے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک آزاد پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، جس کی مدد سے صارفین ایک ہی جگہ بات چیت کے انداز میں تمام سرکاری معلومات تلاش کر سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ راحیل صدیقی نے امریکا میں "امریکہ ڈاٹ جی او وی" کے آغاز کے بعد تیار کیا، جو کہ 29000 سے زائد سرکاری ویب سائٹس کی معلومات کو وفاقی خدمات کے لیے ایک ہی مصنوعی ذہانت والے پورٹل میں یکجا کرتا ہے۔ سرکاری ذرائع سے تلاش آسک پاکستان صارفین کو قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ٹیکس، ملازمتوں، تعلیم اور سماجی امداد جیسی خدمات کے بارے میں انگریزی، اردو یا رومن اردو میں سوالات پوچھنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ پلیٹ فارم کے مطابق اس کے جوابات صرف سرکاری ویب سائٹس سے حاصل کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ اصل ذریعہ اور اگلے ضروری اقدامات بھی بتائے جاتے ہیں۔ اگر اس کے ذرائع میں جواب موجود نہ ہو تو سسٹم خود سے غلط جواب بنانے کے بجائے واضح انکار کر دیتا ہے۔ اس کی عوامی ڈائریکٹری میں فی الوقت 212 وفاقی، صوبائی اور ریگولیٹری ویب سائٹس شامل ہیں، جن میں نادرا، ایف بی آر، بی آئی ایس پی، ایچ ای سی، ایف پی ایس سی، پی ٹی اے، صوبائی حکومتیں، پولیس، یوٹیلیٹیز اور عدالتیں شامل ہیں۔ ہوم پیج کے مطابق یہ سروس سرکاری ذرائع کے 5000 سے زیادہ انڈیکس شدہ صفحات میں تلاش کرتی ہے۔ صارفین کے کوائف کا تحفظ آسک پاکستان کا کہنا ہے کہ سوال بھیجنے سے پہلے صارف کے براوزر میں ہی شناختی کارڈ نمبر، فون نمبر، ای میل، پاسپورٹ نمبر اور بینک اکاونٹ نمبر جیسی ذاتی معلومات ہٹا دی جاتی ہیں۔ سروس کے مطابق وہ گفتگو کا ریکارڈ محفوظ نہیں رکھتی اور نہ ہی سوالات کو کسی مخصوص صارف سے جوڑتی ہے۔ کچھ ابتدائی سوالات اور جوابات ذاتی معلومات ہٹانے کے بعد تقریباً ایک دن کے لیے عارضی طور پر محفوظ کیے جا سکتے ہیں۔ آواز کے ذریعے سوالات پوچھنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ پلیٹ فارم کے مطابق آواز کی ریکارڈنگ گوگل کی جیمنائی اسپیچ سروس کو متن میں تبدیلی کے لیے بھیجی جاتی ہے اور آسک پاکستان اسے محفوظ نہیں کرتا۔ ایک آزاد منصوبہ آسک پاکستان کوئی سرکاری سروس نہیں ہے اور یہ صارفین کی طرف سے درخواستیں جمع نہیں کروا سکتی، ذاتی سرکاری ریکارڈ تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی اور نہ ہی لین دین کر سکتی ہے۔ یہ صارفین کو فیس اور آخری تاریخ جیسی بدلتی ہوئی معلومات کی متعلقہ سرکاری ادارے سے تصدیق کرنے کا مشورہ بھی دیتی ہے۔ راحیل صدیقی کا کہنا ہے کہ مستقبل کا ہدف محض سوالات کے جوابات دینے سے آگے بڑھ کر خودکار خدمات فراہم کرنا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت کا نظام فارم بھرنے، ملاقات کا وقت طے کرنے یا درخواستوں کی نگرانی میں مدد کر سکے۔ اس کے لیے باقاعدہ سرکاری رسائی کی ضرورت ہوگی، جو اس آزاد منصوبے کے پاس فی الحال موجود نہیں ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی