فیکٹ چیک: نیپال میں سیلاب کے بعد کروڑوں سال پرانے دیوہیکل فوسلز ملنے کا دعویٰ بے بنیاد نکلا

News Image

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد سوشل میڈیا پر دیوہیکل پتھروں کی چند تصاویر تیزی سے وائرل ہوئیں، جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے کروڑوں سال پرانے ایمونائٹ فوسلز ہیں۔ تحقیقات کے مطابق یہ دعویٰ سراسر غلط ہے۔ تصاویر میں نظر آنے والے بڑے پتھر قدرتی طور پر برآمد ہونے والے قدیم فوسلز نہیں بلکہ نیپالی فنکاروں کے ہاتھوں تراشے گئے مجسمے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کیا دعویٰ کیا گیا؟ 29 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ نیپال کے پہاڑوں سے آنے والے سیلابی ریلے میں ایک نہایت بڑا ایمونائٹ فوسل بہہ کر سامنے آ گیا ہے۔ بعد ازاں یہی تصاویر انسٹاگرام اور یوٹیوب سمیت دیگر ذرائع پر بھی وائرل ہو گئیں، جہاں صارفین نے انہیں لاکھوں یا کروڑوں سال قدیم فوسلز قرار دیا۔ یہ تصاویر 26 اگست کو نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد شیئر کی گئیں، جس کے باعث صارفین نے انہیں حالیہ قدرتی آفت سے جوڑ دیا۔ حقیقت کیا ہے؟ تصاویر کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ انہی پتھروں کی تصاویر 30 جون کو نیپال کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں بھی شائع ہو چکی تھیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پتھر حالیہ سیلاب سے پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ دراصل وائرل تصاویر میں دکھائی دینے والے پتھر ’شالیگرام شیلا‘ کے مجسمے ہیں جو شمال مغربی نیپال کے پہاڑی قصبے جومسوم میں موجود ہیں۔ تقریباً 6.7 میٹر بلند بڑے مجسمے سمیت یہ تمام پتھر نیپالی فنکاروں نے مجسمہ سازی کی ایک ورکشاپ کے دوران تراشے تھے۔ یہ ورکشاپ نیپال اکیڈمی آف فائن آرٹس اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے منعقد کی گئی تھی، جس کا مقصد علاقے میں سیاحت اور بالخصوص مذہبی سیاحت کو فروغ دینا تھا۔ ہندو مت میں شالیگرام پتھر کو وشنو سے منسوب کیا جاتا ہے، اسی لیے یہ فن پارے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سیلاب سے کوئی تعلق نہیں جومسوم کا قصبہ اس متاثرہ خطے سے سینکڑوں کلومیٹر دور واقع ہے جہاں حالیہ تباہ کن سیلاب آیا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وائرل تصاویر میں نظر آنے والے پتھر فنکاروں کے بنائے ہوئے مجسمے ہیں، جبکہ ان کے قریب بہنے والے دریا میں معمول کے موسمی اضافے کے علاوہ کوئی غیر معمولی سیلاب نہیں آیا۔ نیپال اکیڈمی آف فائن آرٹس نے بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ نتیجہ: نیپال کے حالیہ سیلاب کے بعد دیوہیکل اور قدیم فوسلز دریافت ہونے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ وائرل تصاویر دراصل سیلاب سے کئی ماہ قبل نیپالی فنکاروں کے تیار کردہ شالیگرام شیلا کے مجسموں کی ہیں۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی