ٹرمپ نے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیشکش سے متعلق میڈیا رپورٹس کو بے بنیاد قرار دے دیا

News Image

کیا واشنگٹن واقعی تہران کے آگے نرم پڑنے لگا ہے؟ عالمی سطح پر اس وقت شدید بے چینی پھیل گئی جب امریکی میڈیا نے یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جوہری پیش رفت کے بدلے ایران پر عائد سخت پابندیاں ہٹانے اور منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضامند ہو چکے ہیں، اور ثالثوں کے ذریعے پسِ پردہ رابطے بھی جاری ہیں۔ مگر اس سے پہلے کہ سفارتی حلقوں میں کوئی بڑا طوفان اٹھتا، صدر ٹرمپ خود میدان میں آ گئے۔ انہوں نے سوشل ٹروتھ پر اس دعوے کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کہا کہ ایران کو ایسی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔ ٹرمپ نے امریکی میڈیا ادارے ایگزیوس کی اس رپورٹ کو کھلم کھلا جھوٹ، من گھڑت اور اپنے مخالفین کا متعصبانہ ایجنڈا قرار دیتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا الٹی میٹم دے دیا۔ ادھر خبر لیک کرنے والے حکام اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں کہ جوہری معاملات پر مکمل پیش رفت کے بغیر کوئی باقاعدہ معاہدہ ممکن نہیں، لیکن ٹرمپ کے اس غضب ناک انکار نے اس پورے معاملے کو ایک پر اسرار اور نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی