-->

بھارتی سپریم کورٹ نے احمد آباد دھماکا کیس میں سزا یافتہ مجرم کی پھانسی روک دی

News Image

2008 کے احمد آباد سلسلہ وار بم دھماکا کیس میں سزائے موت پانے والے احمد باوا عرف ابو ابوبکر بریلوی کو سپریم کورٹ سے عارضی ریلیف مل گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے مجرم کی جانب سے دائر اپیل پر نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ سماعت جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی جس میں جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح شامل تھے۔ سپریم کورٹ اب گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر درخواست میں اٹھائے گئے قانونی نکات کا جائزہ لے گی۔ دوران سماعت وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ احمد باوا کو بنیادی طور پر سازش کے الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دیا گیا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ کی متعدد اہم دستاویزات مقامی زبان میں ہیں اس لیے انہیں سمجھنے کے لیے ترجمہ درکار ہے۔ دفاع کی جانب سے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے کا ترجمہ فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی۔ واضح رہے کہ احمد باوا کو سلسلہ وار بم دھماکوں کے کیس میں احمد آباد کی نچلی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی جسے بعد ازاں گجرات ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف احمد باوا عرف ابو ابوبکر بریلوی نے اپنے وکیل کی وساطت سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے سزا پر عمل درآمد روکنے کا مطلب ہے کہ فی الحال احمد باوا کو پھانسی نہیں دی جا سکے گی۔ کیس میں مزید سماعت کے بعد عدالت آئندہ قانونی کارروائی سے متعلق فیصلہ کرے گی۔ یاد رہے کہ 26 جولائی 2008 کو شام کے وقت محض 70 منٹ کے مختصر وقفے میں احمد آباد شہر کے پرہجوم علاقوں جیسے بازاروں، بسوں، پارک کی گئی سائیکلوں اور گاڑیوں کے قریب 21 بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس حملے کی سب سے ہولناک بات یہ تھی کہ زخمیوں کو لانے والے سرکاری سول ہسپتال اور ایل جی ہسپتال کو بھی بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان دھماکوں میں 56 افراد جاں بحق اور 240 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے اس کیس میں مجموعی طور پر 100 سے زائد افراد کو نامزد کیا تھا جن میں سے 78 ملزمان پر باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا۔ ان 78 ملزمان میں سے خصوصی عدالت اور گجرات ہائی کورٹ نے 49 کو مجرم قرار دیا جن میں سے 38 کو سزائے موت اور 11 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ 28 افراد کو عدم ثبوت پر بری کر دیا گیا۔ جن میں سب سے پہلے مبینہ ماسٹر مائنڈ مفتی ابو بشر سمیت کئی اہم کارندوں کو ملک کی 11 مختلف ریاستوں جیسے مدھیہ پردیش، کیرالہ اور اتر پردیش سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بھارتی پولیس اور کرائم برانچ کے مطابق یہ تمام افراد بھارت میں کالعدم تنظیموں انڈین مجاہدین اور سیمی سے وابستہ تھے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی