🤖 YourBolt AI
✖
Assalam o Alaikum! Main YourBolt AI hoon. Aap mujhse khabron, sports, ya kisi bhi topic ke baare mein sawal pooch sakte hain.

تحریک تحفظ آئین کی اے پی سی میں شرکت کی دعوت قبول، گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کریں گے، حافظ نعیم

News Image

جماعت اسلامی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی سیاسی صورتحال، امن و امان کے مسائل اور معاشی بحران پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی نے باضابطہ طور پر اے پی سی میں شرکت کی دعوت منظور کر لی۔ یہ ملاقات نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم کی رہائش گاہ پر ہوئی، جہاں حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ لیاقت بلوچ اور نصراللہ رندھاوا بھی موجود تھے، جبکہ تحریک تحفظ آئین کے وفد میں بیرسٹر گوہر، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر اور مصطفی نواز کھوکھر شامل تھے۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ بھی اس بیٹھک میں شریک ہوئے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین صورتحال سے دوچار ہے اور خود ایک وفاقی وزیر یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ملکی نظام ناکام ہو چکا ہے۔ اس ناکامی کا سارا بوجھ غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن ہر کام سے قبل باہمی مشاورت کی ہدایت دیتا ہے، اسی لیے وہ جماعت اسلامی کی قیادت کے پاس آئے ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد ملک کو بحرانوں سے نکالنا ہے، جس کے لیے جماعت اسلامی کو مدعو کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حافظ نعیم الرحمان نے پہلے ہی گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف واضح موقف اپنایا تھا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر ایک ایسے ایجنڈے کی ضرورت ہے جو امن و امان اور معاشی بہتری پر اتفاق رائے پیدا کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کسی ایک جماعت یا ادارے کی جاگیر نہیں، ملک میں انتشار اور خون خرابے کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی لگانے یا آئین معطل کرنے کے ہر اقدام کی مخالفت کرے گی۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو سنجیدہ اور با مقصد مذاکرات کرنے چاہیے تھے مگر تاخیر کی گئی، اب بھی وقت ہے کہ نتیجہ خیز بات چیت ہو۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پارٹی رہنماوں کی ملاقاتیں نہ کروانا غلط اقدام ہے اور ان کی صحت سے متعلق تمام خدشات دور ہونے چاہییں۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت تمام گرفتار خواتین اور سیاسی رہنماوں کو فوری رہا کیا جائے اور ان کی قانونی ضمانتوں میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں۔ انہوں نے عوام سے مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک میں ساتھ دینے کی بھی اپیل کی۔ بعد ازاں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے گفتگو میں کہا کہ متحدہ اپوزیشن انصاف کے حصول کے لیے کوشاں ہے، اور وہ بغیر کسی پیشگی شرط کے حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل عوام کے تحفظات دور کرنے میں ہے، لانگ مارچ کا حل ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں۔ خیبر پختونخوا کو این ایف سی کے تحت فنڈز نہیں دیے گئے، اس کے باوجود صوبائی حکومت نے پولیس کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد اور شفاف انتخابات، مہنگائی کا خاتمہ اور عوامی حق حکمرانی ہمارے بنیادی مطالبات ہیں، اور دہشت گردی کے خلاف ہم پہلے بھی ریاست کے ساتھ کھڑے تھے اور آئندہ بھی تعاون کریں گے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم