-->

معیشت مستحکم، اگلا ہدف سرمایہ کاری؛ او آئی سی سی آئی کی وزیر خزانہ سے اصلاحاتی ایجنڈے پر بات چیت

News Image

وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سینئر قیادت اور سرکردہ غیر ملکی سرمایہ کاروں سے ملاقات کی تاکہ اس بات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے کہ کس طرح معاشی استحکام کو سرمایہ کاری میں بدلا جائے۔ او ش سی سی آئی نے معاشی بحالی کا اعتراف کیا لیکن اس بات پر زور دیا کہ اس کے تناسب سے سرمایہ کاری نہیں بڑھی، مالی سال 26 میں خالص براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 34 فیصد کم ہو کر 1.7 ارب ڈالر رہ گئی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی استحکام پہلا قدم تھا، منزل نہیں۔ ہمارا اب کام اسے سرمایہ کاری، برآمدات اور ملازمتوں میں بدلنا ہے، اور اس کا مطلب سرمایہ کاروں سے براہ راست یہ سننا ہے کہ اب بھی کیا چیزیں راستے میں حائل ہیں۔ اراکین کی سب سے بڑی تشویش تقریباً 103 ارب روپے کے زیر التوا انکم اور سیلز ٹیکس ریفنڈز ہیں، جس کے لیے انہوں نے تصدیق شدہ دعووں کی ادائیگی یا ان کے تصفیے کے لیے ایک وقت کے تعین والا طریقہ کار مانگا۔ انہوں نے ودہولڈنگ اور شعبہ وار ٹیکسوں کو معقول بنانے، صنعتوں کی مشاورت سے تیار کردہ درمیانی مدت کے مالیاتی اور ٹیکس فریم ورک، اور نجی شعبے کے لیے کریڈٹ کی فراحمی کی خاطر حکومت کی طرف سے بینکوں سے قرض لینے میں بتدریج کمی کا بھی مطالبہ کیا۔ او آئی سی سی آئی کے صدر عمر احسن خان نے کہا کہ پاکستان نے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کا مشکل ترین کام کر لیا ہے۔ اب اصل امتحان یہ دیکھنا ہے کہ آیا یہ ری انویسٹمنٹ اور نئی ایف ڈی آئی میں ظاہر ہوتا ہے۔ زیر التوا ٹیکس ریفنڈز کا اجرا اور سرمایہ کاروں کو قابلِ پیشگوئی ٹیکس پالیسی دینا اس بات کا ثبوت دینے کا سب سے تیز طریقہ ہوگا۔ چیمبر نے مزید گہری اصلاحات پر بھی زور دیا جن میں سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری، بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے کا حل، اور زراعت، رئیل اسٹیٹ، ریٹیل ٹریڈ اور ایس ایم ایز پر وسیع تر ٹیکس کا نفاذ شامل ہے۔ او آئی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل ایم عبد العلیم نے کہا کہ ہمارے اراکین کوئی احسان نہیں مانگ رہے، وہ پیشگوئی کے قابل ماحول مانگ رہے ہیں۔ استحکام نے ہمیں ایک بنیاد دی ہے۔ ساختیاتی اصلاحات اور ایک ایسا مشاورتی عمل جو کسی بھی ایک بجٹ سے آگے کا سوچتا ہو، اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ سرمایہ یہاں رکے اور بڑھے۔ او آئی سی سی آئی نے امریکہ، خلیجی ممالک اور چین کے ساتھ پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے بیرونی تعلقات کو زیادہ تجارت، سرمایہ کاری اور برآمدی مواقع میں تبدیل کرنے کے موقع پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر او آئی سی سی آئی کے سابق صدر یوسف حسین بھی موجود تھے اور انہوں نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے یادگار شیلڈ وصول کی۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی