امریکا نے ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی میں معاونت پر پاکستان سمیت دیگر ممالک کے 10 افراد اور اداروں پر پابندیاں عاید کر دیں

News Image

امریکا نے ایران کے عسکری پروگرام کے لیے مبینہ طور پر ہتھیاروں اور ان کے پرزہ جات کی خریداری میں مدد فراہم کرنے کے الزام میں پاکستان، چین، ہانگ کانگ اور ایران سے تعلق رکھنے والے 10 افراد اور تجارتی اداروں پر نیی پابندیاں عاید کر دی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کے روز اعلان کیا کہ ان پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں چین میں مقیم ایرانی وزارت دفاع کا ایک نمایندہ اور مختلف کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ یہ افراد اور کاروباری ادارے ایک ایسے نیٹ ورک سے جڑے ہویے ہیں جو ایرانی وزارت دفاع کے لیے ہتھیار اور حساس عسکری پرزہ جات حاصل کرتا رہا ہے، جس سے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو تقویت ملتی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان تمام افراد اور اداروں نے ایرانی دفاعی پروگرام کے لیے اسلحے کے ضروری پرزوں کی خریداری میں سہولت کاری فراہم کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اب ایران کو مادی، تکنیکی یا مالی مدد پہنچانے والے تمام نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے اور ان کی سرگرمیاں روکنے کا سلسلہ پوری قوت سے جاری رکھے گا۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق محکمہ خزانہ ایرانی حکومت کی معاونت کرنے والے عناصر کی نشاندہی کرتا رہے گا اور انہیں عالمی مالیاتی نظام سے الگ تھلگ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات عمل میں لایے گا۔ یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آیے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم دونوں ممالک کے مابین بنیادی اختلافات اب بھی بدستور موجود ہیں۔ واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے تہران پر معاشی دباو برقرار رکھنے کی پالیسی کے تحت اس سے قبل بھی ایرانی عسکری اور میزایل پروگراموں سے منسلک متعدد افراد اور کمپنیوں کو سخت پابندیوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی