
کیا پاکستان کی معیشت میں روایتی کارگو اور شپمنٹس کا دور اب ختم ہونے جا رہا ہے؟ اسلام آباد کے ہواوے گلوبل سروس سینٹر سے ایک غیر معمولی ڈیجیٹل انقلاب کی گونج اٹھی ہے، جہاں وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے ملکی تاریخ کے ایک بڑے معاشی موڑ سے پردہ اٹھایا ہے۔ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات سالانہ 20 فیصد سے زائد کی حیران کن رفتار سے بڑھ رہی ہیں اور ملک خاموشی سے وزیراعظم کے مقرر کردہ 25 ارب ڈالر کے عظیم الشان ہدف کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔ سب سے سنسنی خیز انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں بیٹھے محض ڈھائی ہزار نوجوان انجینئرز مشرق وسطیٰ، افریقا اور لاطینی امریکا سمیت دنیا کی 100 سے زائد عالمی مارکیٹس کے ٹیلی کام اور آئی ٹی نظام کو اپنے ہاتھوں سے چلا رہے ہیں۔ ملک کی 24 کروڑ آبادی، 68 فیصد پرعزم نوجوانوں اور افرادی قوت میں 50 فیصد خواتین کے دم پر پاکستان اب عالمی منڈیوں میں روایتی سامان کے بجائے جدید علم بیچ رہا ہے۔ مستقبل کی اس تیز رفتار دوڑ میں 480 میگا ہرٹز کی تاریخی اور دنیا کی سب سے بڑی سپیکٹرم نیلامی بھی مکمل ہو چکی ہے، جو پاکستان کو فائیو جی کے ایک نئے دور میں داخل کر دے گی۔ حکومت نے 3 لاکھ طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے 200 سے زائد جامعات میں جدید اکیڈمیاں قائم کر دی ہیں، جہاں سے تربیت یافتہ 400 سے زیادہ پاکستانی پہلے ہی دنیا بھر میں دھاک بٹھا چکے ہیں۔ پاکستان اب صرف عالمی کمپنیوں کا سروس فراہم کنندہ نہیں رہے گا، بلکہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹرز کے قیام سے دنیا کی جدید ترین اختراعات کی قیادت کرنے جا رہا ہے۔
News Source: Express News