امریکی گھروں میں روبوٹ ماسی کا راج، فی گھنٹہ فیس 8 ہزار روپے مقرر

News Image

ٹیکنالوجی کے جدید دور میں صفائی ستھرائی کے شعبے میں ایک بڑا انقلاب رونما ہو رہا ہے۔ ایک امریکی کمپنی نے مصنوعی ذہانت اور انسانی تعاون کی مدد سے چلنے والے ایسے روبوٹ متعارف کرائے ہیں جو گھروں اور دفاتر میں صفائی ستھرائی کے تمام کام بخوبی انجام دیتے ہیں۔ یہ روبوٹ فرش پر جھاڑو دینے، قالین صاف کرنے، باورچی خانے کے سنک سے گندگی سمیٹنے اور کچرے کی تھیلیاں اٹھا کر کوڑے دان میں ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کمپنی اپنی اس روبوٹ ماسی کے لیے 30 ڈالر یعنی تقریباً 8 ہزار 370 روپے فی گھنٹہ فیس وصول کر رہی ہے۔ یہ رقم پاکستان کے حساب سے کافی زیادہ ہے، لیکن امریکی شہروں میں گھریلو ملازمین کی شدید قلت کے باعث وہاں کے امیر لوگ خوشی سے 30 ڈالر فی گھنٹہ دے کر صفائی کروا رہے ہیں۔ روبوٹکس کے ماہرین ان روبوٹس کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ وہ برتن اور کپڑے دھونے جیسے مشکل کام بھی انجام دے سکیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ روبوٹ ماسیوں کے عام ہونے سے بوڑھے افراد کو بے حد فائدہ پہنچے گا جو اپنے روزمرہ کے کام آسانی سے نہیں کر سکتے۔ ماہرین کے مطابق روبوٹ ماسی ملنے سے ایسے افراد کی زندگی سہل ہو جائے گی۔ یہ مصنوعی ذہانت کا ایک مثبت پہلو ہے، جبکہ اس ٹیکنالوجی کے بعض نقصانات بھی رفتہ رفتہ سامنے آ رہے ہیں۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی