امریکا کے ساتھ مذاکرات ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ اور مختصر ہو سکتے ہیں: ایران

News Image

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ اور مختصر ہو سکتے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہویے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں کے دوران ایران نے اپنا تازہ ترین امن منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران امریکی ردعمل کا منتظر ہے اور توقع رکھتا ہے کہ حالیہ مذاکرات کے ذریعے کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ماضی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کافی وقت لگا تاہم اس مرتبہ حالات مختلف دکھایی دے رہے ہیں اس لیے بات چیت زیادہ سنجیدہ انداز میں آگے بڑھے گی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ بھی باور کرایا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کی امید موجود ہے تاہم ایران اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے معاملے پر کویی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے ابتدایی طور پر ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے باوجود مذاکرات کا جاری رہنا اس بات کی علامت ہے کہ سفارتی رابطوں کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔ دوسری جانب ایرانی قیادت نے اس سفارتی پیش رفت کی امید کے ساتھ امریکا کو عسکری طاقت کے استعمال سے متعلق سخت پیغامات بھی دیے ہیں۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، سپریم لیڈر اور خود عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران امریکی فوجیوں کی خطے میں موجودگی سے خوفزدہ نہیں اور کسی بھی فوجی کارروایی کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی