نوجوانوں کو لوٹنے والی جعلی دلہن اپنے جھوٹے رشتہ داروں سمیت دھر لی گیی

News Image

بھارتی ریاست اتر پردیش میں پولیس نے شادی کے نام پر نوجوانوں کو مبینہ طور پر لوٹنے والے گروہ کا سراغ لگا کر 7 افراد کو حراست میں لے لیا۔ اس گروہ میں دو خواتین اور پانچ مرد شامل ہیں، جو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت جعلی رشتہ طے کرکے شادی کے بعد دلہا والوں کو اپنا نشانہ بناتے تھے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع اعظم گڑھ میں سرگرم یہ گروہ ایسے نوجوانوں کی تلاش میں رہتا تھا جن کی کسی مجبوری کی وجہ سے شادی نہیں ہوپارہی ہوتی تھی۔ ملزمان واٹس ایپ اور دیگر سماجی رابطوں کے ذرایع کے ذریعے لڑکی کی تصاویر دکھا کر رشتہ طے کرتے، اور پھر لڑکے والوں کو مندر بلا کر شادی کی تمام رسومات مکمل کرواتے تھے۔ شادی کی تقریب کے دوران دلہن کو نقد رقم یا زیورات کی صورت میں قیمتی تحایف دیے جاتے۔ اس کے بعد جیسے ہی دلہا دلہن کو لے کر اپنے گھر کے لیے روانہ ہوتا، تو راستے میں اس گروہ کے دوسرے ارکان فرضی رشتے دار بن کر گاڑی کو روک لیتے تھے۔ مبینہ طور پر وہ دلہن اور شادی میں ملنے والے تمام تحایف اپنے قبضے میں لے کر موقع سے فرار ہوجاتے تھے۔ پولیس تک یہ معاملہ رام ولاش نامی ایک شخص کی شکایت کے بعد پہنچا۔ اس نے بتایا کہ اس کے بیٹے راجکمار کے لیے واٹس ایپ پر ایک لڑکی کی تصویر بھیجی گیی تھی۔ رشتہ طے ہونے کے بعد انہیں بندھوا مہادیو مندر بلایا گیا، جہاں شادی کی تقریب منعقد ہویی اور دلہن کو 80 ہزار روپے نقد رقم کے علاوہ سونے کے زیورات بھی دیے گیے۔ رام ولاش کے مطابق شادی کے بعد جب ان کا بیٹا دلہن کو لے کر واپس اپنے گھر جارہا تھا تو راستے میں مبینہ باپ اور بھایی نے گاڑی کو رکوا کر دلہن کو زبردستی نیچے اتارا اور نقد رقم اور زیورات سمیت فرار ہوگیے۔ شکایت موصول ہوتے ہی پولیس نے فوری کارروایی کرتے ہویے اس گروہ کے تمام 7 مبینہ ارکان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 19 ہزار 650 روپے نقد، سونے اور چاندی کے زیورات، شادی کی تقریب میں استعمال ہونے والا سامان اور واردات میں استعمال ہونے والی دو موٹرساییکلیں بھی برآمد کرلی گیی ہیں۔ تفتیش کے دوران یہ اہم بات بھی سامنے آیی کہ اس گروہ کی ایک خاتون دلہن کا مرکزی کردار ادا کرتی تھی جبکہ دوسری خاتون خود کو اس کی ماں ظاہر کرکے لڑکے والوں کا اعتماد جیتتی تھی۔ گروہ کے دیگر مرد ارکان شادی کے بعد فرضی رشتہ دار بن کر راستے میں واردات کو انجام دیتے تھے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی