
قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے اپنا موبائل فون واپس کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق محمد رضوان نے این سی سی آئی اے کو خط لکھ کر لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ حکم پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رضوان نے موقف اختیار کیا کہ انہیں تاحال تحقیقات کی نوعیت سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق رضوان نے اپنے خط میں موبائل فون واپس کرنے کی بھی درخواست کی ہے جو این سی سی آئی اے کے پاس موجود ہے۔ یہ فون اکتیس اگست کو انگلینڈ میں ان سے لیا گیا تھا۔ رضوان کا کہنا ہے کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ فون تین گھنٹے میں واپس کر دیا جائے گا تاہم کئی ہفتے گزرنے کے باوجود ایسا نہیں ہوا۔ لاہور ہائی کورٹ نے تقریباً دو ہفتے قبل رضوان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں تحقیقات میں تعاون کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم ایجنسی کو غیر ضروری ہراسانی یا تکلیف سے گریز کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ رضوان نے خط میں این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا کہ تحریری طور پر بتایا جائے کہ تحقیقات کس مخصوص معاملے سے متعلق ہیں اور انہیں کب پیش ہونا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فون کا پاس ورڈ فراہم کرنا اور دیگر تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تحقیقات میں پورا تعاون کر رہے ہیں۔ کرک انفو کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رضوان کے خط میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ایجنسی نے عدالت کے احکامات پر مناسب عمل درآمد ظاہر کرنے کے لیے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے برطانیہ میں قانونی ذمہ داری نہ ہونے کے باوجود اپنا فون چیک کرنے کے لیے دے دیا تھا۔
News Source: Express News