ہرمز کی طرح امریکا بحیرۂ عرب سے بھی بھاگنے پر مجبور ہو جایے گا؛ ایرانی سپریم لیڈر

News Image

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ سے نکلنا ہوگا، دشمن قوتوں کو آبنایے ہرمز کے محافظوں کے ہاتھوں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور جلد بحیرۂ عرب بھی ان کی موجودگی سے پاک ہو جایے گا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے پیر کو اپنے تحریری بیان میں کہا کہ ایران کے بہادر جنگجووں اور آبنایے ہرمز کے محافظوں کے حملوں کے بعد دشمن اب بحیرۂ عرب سے آگے آنے کی ہمت نہیں کرتا۔ انھوں نے امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ جب بھی دشمن قوتوں نے اس خطرے کو مول لیا، انھیں نقصان اٹھانا پڑا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب بحیرۂ عرب بھی ان کی موجودگی سے خالی ہو جایے گا۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ آبنایے ہرمز میں ایرانی محافظوں کے جوابی حملوں کے نتیجے میں امریکا بحیرہ عرب اور مشرقِ وسطیٰ سے بھاگنے پر مجبور ہو جایے گا جیسا وہ آبنایے ہرمز کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کے ذریعے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے اور بعض حلقوں میں اسے دنیا کی چوتھی سپر پاور سمجھا جانے لگا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کبھی انحصار اور کمزوری کے دور سے گزرا تھا، تاہم اب ملک خودمختاری، طاقت اور اسلامی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ ان کے بقول ماضی میں ایران پر غلبہ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والی قوتوں کو اب ایرانی عسکری صلاحیتوں کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دشمن ایران کو ماضی کی جانب دھکیلنا چاہتا ہے لیکن وہ دور گزر چکا اور دوبارہ کبھی واپس نہیں آیے گا۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ موجودہ حالات میں وہ طاقتیں جو کبھی جارحیت اور غلبے کی پالیسی اپناتی تھیں، اب جنگ کے خاتمے اور تحفظ کی تلاش میں ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایرانی جنگجووں اور آبنایے ہرمز کے محافظوں کی کاررواییوں کے بعد دشمن قوتیں بحیرۂ عرب سے آگے بڑھنے سے گریز کر رہی ہیں اور جلد یہ سمندر بھی ان کی موجودگی سے خالی ہو جایے گا۔ سپریم لیڈر خامنہ ای کے بیان میں امریکا کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا تاہم اسے امریکی افواج کے لیے واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بیان کی اہمیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور نیویارک میں بیک ڈور مذاکرات متوقع ہیں۔ واضح رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اٹھاییس فروری کو مبینہ طور پر اس حملے میں زخمی ہو گیے تھے جس میں ان کے والد آیت اللہ خامنہ ای شہید ہو گیے تھے۔ پھر انھیں سپریم لیڈر منتخب کیا گیا لیکن وہ تاحال منظرعام پر نہیں آیے، ان کے بیانات سرکاری چینل پر پڑھ کر سنایے جاتے ہیں۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی