
اسراییل میں 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے میں ہلاک ہونے والے فوجی کے والد نے حکومت پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز اور معاملے کو دبانے کا الزام لگایا ہے۔ اسراییلی میڈیا کے مطابق ہلاک فوجی الریو بین شطریت کے والد رافی بین شطریت نے تل ابیب میں ناکامی کا خیمہ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے گلے شکووں بھرا خطاب کیا۔ حکومتی بے حسی کے شکار والد نے کہا کہ فوجی قیادت کے بعض سابق عہدیدار حملے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری تسلیم کر چکے ہیں لیکن سیاسی قیادت اب بھی ذمہ داری سے بچ رہی ہے۔ رافی بین شطریت نے بتایا کہ انہوں نے سابق اسراییلی فوجی سربراہ ہرزی ہالیوی سے چار مرتبہ ملاقات کی تھی اور کہا کہ وہ ذمہ دار ہیں کیونکہ حملہ ان کے دور میں ہوا۔ سابق شن بیت سربراہ رونین بار نے بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ہلاک فوجی کے والد نے نیتن یاہو حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم کو بھی متاثرہ خاندانوں کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔ 7 اکتوبر کی جانچ کے واسطے ریاستی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جانا ضروری ہے اور سیاسی قیادت کو بھی اپنی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ تقریب سے سابق میجر جنرل نوم ٹیبون نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر کے واقعات میں حکومت کی ناکامیوں کی تفصیلی جانچ ہونی چاہیے۔ اسراییل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے والے ہیں۔ تقریب میں شریک مقررین نے عوام پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں اپنا ووٹ ضرور ڈالیں۔
News Source: Express News