خوراک کی مدتِ مصرف صارفین کے خریداری کے فیصلوں پر اثر انداز قرار

News Image

ایک نیی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ صارفین اکثر کھانے کی اشیا کی مدتِ مصرف کو ان کی قدرتی اور ماحول دوست ہونے کی علامت سمجھ لیتے ہیں حالانکہ مدتِ مصرف ہمیشہ اس بات کا قابلِ اعتماد پیمانہ نہیں ہوتی۔ جرنل آف کنزیومر ساییکالوجی میں شایع ہونے والی تحقیق کے دوران مختلف تجربات کیے گیے۔ ایک تجربے میں شرکا کو ایسے آلو کے چپس کا موازنہ کرنے کو کہا گیا جن کی مدتِ مصرف بالترتیب پانچ اور نو ماہ تھی۔ شرکا نے کم مدتِ مصرف والے چپس کو زیادہ قدرتی اور صحت بخش قرار دیا جبکہ زیادہ مدتِ مصرف والے چپس کو ماحول دوست اور خوراک کے ضیاع میں کمی کے لیے بہتر سمجھا۔ ایک اور تجربے میں شرکا کو ایسی پاستا ساسز میں سے انتخاب کرنا تھا جن کی مدتِ مصرف ایک اور تین سال تھی۔ جب انہیں قدرتی غذاوں کی اہمیت پر توجہ دلایی گیی تو تقریباً 70 فی صد افراد نے ایک سال مدتِ مصرف والی ساس کا انتخاب کیا۔ تاہم، جب ماحول کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کی گیی تو یہ شرح کم ہو کر 43 فی صد رہ گیی۔ محققین کے مطابق نتایج ظاہر کرتے ہیں کہ صارفین بعض اوقات مدتِ مصرف کو خوراک کی قدرتی خصوصیات اور ماحولیاتی اثرات کے بارے میں ایک سادہ اشارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جو ہمیشہ درست نتیجے تک نہیں پہنچاتا۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی