چینی ہیومنائڈ روبوٹس نے سعودی عرب کا روایتی تلوار رقص پیش کیا

News Image

عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی ستترویں سالگرہ کے موقع پر ریاض میں ہونے والی ایک استقبالیہ تقریب میں چینی ساختہ ہیومنائڈ روبوٹس نے سعودی عرب کا مشہور روایتی تلوار رقص 'عرضہ' پیش کیا۔ یہ استقبالیہ تقریب سعودی عرب میں چین کے سفارت خانے کی جانب سے ریاض کے سفارتی کوارٹر میں واقع کلچرل پیلس میں منعقد کی گئی۔ روبوٹس نے روایتی سعودی لباس پہن رکھا تھا جس میں ثوب، غترہ، عقال اور دو تلواروں اور کھجور کے درخت کے نشان والے سبز رومال شامل تھے۔ اس پرفارمنس کے دوران ہیومنائڈ روبوٹس نے ہاتھ میں چھڑیاں اٹھا رکھی تھیں اور روایتی نجدی عرضہ سے متاثر ہو کر باہم آہنگ حرکات کیں، جن کے ساتھ مخصوص تال اور نعرے بھی شامل تھے۔ ریاض ریجن کے میئر شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز بن عیاف اور سعودی عرب میں چین کے سفیر چانگ ہوا نے دیگر سفارت کاروں، حکام اور مہمانوں کے ہمراہ اس تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چانگ ہوا نے کہا کہ سفارت خانے نے اس سالگرہ کی یاد میں یہ استقبالیہ منعقد کیا تھا اور انہوں نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ چینی سفیر کا کہنا تھا کہ چین میں بنے ہوئے روبوٹس نے شاندار پرفارمنس پیش کی جس نے شرکا پر گہرا اثر چھوڑا۔ اس پرفارمنس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی توجہ کا مرکز بنی جہاں صارفین اور ٹیکنالوجی کے شائقین نے جدید روبوٹکس اور سعودی ثقافتی ورثے کے اس انوکھے امتزاج پر دلچسپ ردعمل ظاہر کیا۔ اس نمائش نے ہیومنائڈ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کی اس صلاحیت کو اجاگر کیا کہ وہ جدید ماحول میں روایتی ثقافتی پیشکش کے دوران پیچیدہ انسانی حرکات کی نقل کر سکتے ہیں۔ یہ پوسٹ سب سے پہلے پرو پاکستانی پر شائع ہوئی۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی