فیکٹ چیک: علیمہ خان سے منسوب پی ٹی آئی کی صدارت کا دعویٰ جھوٹا نکلا

News Image

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کی صدر بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ دعویٰ غلط ہے۔ دعویٰ کیا ہے؟ اکیس اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر علیمہ خان کے ایک انٹرویو کا تقریباً دو منٹ طویل کلپ شیئر کیا گیا۔ یہ انٹرویو آسٹریلوی صحافی ماریو نوفل نے کیا تھا۔ ویڈیو کے ساتھ اردو میں دعویٰ کیا گیا کہ علیمہ خان تحریک انصاف کی صدر بن کر پارٹی کے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہیں اور ایسا عمران خان کی موجودگی میں ممکن نہیں۔ پوسٹ میں علیمہ خان سے منسوب کرتے ہوئے یہاں تک دعویٰ کیا گیا کہ وہ چاہتی ہیں کہ عمران خان جیل میں انتقال کر جائیں۔ رپورٹ کے وقت تک مذکورہ پوسٹ کو دو ہزار چھ سو پچپن مرتبہ دیکھا اور انتالیس مرتبہ لائیک کیا جا چکا تھا جبکہ اسی نوعیت کے دعوے ایکس اور فیس بک پر دیگر اکاؤنٹس سے بھی شیئر کیے گئے۔ حقیقت کیا ہے؟ فیکٹ چیک میں سامنے آیا کہ زیرِ گردش انٹرویو حالیہ نہیں بلکہ اگست دو ہزار پچیس کا ہے اور علیمہ خان نے اس میں تحریک انصاف کی صدر بننے، پارٹی کا کنٹرول سنبھالنے یا عمران خان کے حوالے سے وائرل پوسٹ میں منسوب کیے گئے بیانات میں سے کوئی بات نہیں کی ہے۔ تقریباً ایک گھنٹے پر مشتمل مکمل انٹرویو کا جائزہ لینے پر بھی ایسی کوئی گفتگو سامنے نہیں آئی جس میں علیمہ خان نے تحریک انصاف کی صدارت یا پارٹی کے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کی خواہش ظاہر کی ہو۔ انٹرویو کے دوران علیمہ خان نے عمران خان کی جیل میں حالت اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سمیت مختلف معاملات پر گفتگو کی تھی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا حصہ مکمل انٹرویو میں تقریباً چار منٹ چودہ سیکنڈ کے مقام پر موجود ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ وائرل کلپ میں بھی علیمہ خان وہ الفاظ ادا کرتی نظر نہیں آتیں جو پوسٹ کے کیپشن میں ان سے منسوب کیے گئے ہیں۔ نتیجہ علیمہ خان سے منسوب یہ دعویٰ غلط ہے۔ زیرِ گردش ویڈیو اگست دو ہزار پچیس کی ہے اور اس میں انہوں نے نہ تحریک انصاف کی صدر بننے کی خواہش ظاہر کی اور نہ ہی عمران خان سے متعلق وہ بیان دیا جو سوشل میڈیا پوسٹس میں ان سے منسوب کیا جا رہا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی