گزشتہ ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا میں بدانتظامی پر وائٹ پیپر

News Image

خیبر پختونخوا میں بدانتظامی کا ایک اور سیاہ باب سامنے آ گیا ہے، جہاں گزشتہ ایک سال کے دوران اسمگلنگ، منشیات اور دہشت گردی کے سائے مزید گہرے ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں جاری ہونے والے ایک چونکا دینے والے وائٹ پیپر نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر ایسے سوالات اٹھا دیے ہیں جو ہر ذی ہوش کو ہلا کر رکھ دیں۔ اعداد و شمار خوفناک ہیں؛ سال 2026 کی پہلی ششماہی میں دہشت گردی کے آگے سیسہ پلائی دیوار بننے والے 122 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 93.7 فیصد زیادہ ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد میں 108 فیصد سے زائد کا ہولناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنوری سے ستمبر 2026 تک صوبے کو 680 دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنایا گیا، اور ستمبر میں کوہاٹ کے سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے دفاتر پر ہونے والے حملے نے تو سلامتی کے ان اداروں کے تحفظ کو بھی ایک سوالیہ نشان بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر فنڈز کی موجودگی کے باوجود زمینی حقیقت اتنی خطرناک کیوں ہے؟ دسمبر 2025 کی رپورٹ کہتی ہے کہ سی ٹی ڈی میں 19 فیصد آسامیاں خالی پڑی ہیں، مطلوبہ 200 ایم فور رائفلوں میں سے صرف 9 دستیاب ہیں، یعنی ضرورت کا محض ساڑھے چار فیصد! نائٹ ویژن آلات کی کمی بھی ہوش اڑا دینے والی ہے، جہاں 35 کی ضرورت پر صرف 11 میسر ہیں۔ دوسری طرف منشیات کا مکروہ دھندا بھی عروج پر ہے؛ 2026 کے پہلے ہی ماہی میں ہزاروں کلوگرام چرس، سینکڑوں کلوگرام آئس، ہیروئن اور افیون پکڑی جا چکی ہے، اور ستمبر میں پشاور سے ایک ہی ماہ میں 960 کلوگرام منشیات کی کھیپ اور مصنوعی منشیات ساز مراکز کا پکڑا جانا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ زہر اب شہروں کی رگوں میں اتر چکا ہے۔ کسٹمز رپورٹس کے مطابق محض دو ہفتوں میں ایک ارب 16 کروڑ روپے سے زائد کا اسمگل شدہ سامان ضبط کیا گیا، مگر اصل سرپرست اب بھی قانون کی گرفت سے دور ہیں۔ ایک طرف دہشت گردی سے جوانوں کی لاشیں گر رہی ہیں اور دوسری طرف ستمبر 2026 میں صوبائی کابینہ نے پولیس کمان پر سیاسی اختیارات بڑھانے کے مسودے کی منظوری دے کر پیشہ ورانہ خودمختاری پر بھی خط کھینچ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نامکمل بھرتیاں، دفاعی سازوسامان کی مجرمانہ کمی اور خونریز حملوں کے اس طوفان میں آخر کب تک خاموشی رہے گی؟ صوبائی حکومت سے اب صرف بیانات نہیں، بلکہ ایک ایک پائی اور ایک ایک قطرے کا حساب درکار ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی