
شوبز کی چکاچوند کے پیچھے چھپی تاریک حقیقت اس وقت طشت از بام ہوگئی جب معروف اداکار آغا مصطفیٰ نے انڈسٹری کے نام نہاد نظام کے خلاف ایک سنسنی خیز ویڈیو جاری کرتے ہوئے خاموشی کا پردہ چاک کر دیا۔ جون میں مکمل ہونے والے ڈرامے کا کام ختم ہوئے مہینوں بیت گئے، ستمبر بھی آ پہنچا، لیکن محنت کا معاوضہ کہاں غائب ہے؟ کوئی نہیں جانتا! آغا مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف رقم کی تاخیر کا نہیں بلکہ مسلسل پراسرار خاموشی اور تسلی بخش جواب نہ ملنے کا ہے۔ انہوں نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا فوری ادائیگیاں صرف ہانیہ عامر، وہاج علی، فواد خان اور صبا قمر جیسے سپر اسٹارز کا ہی حق ہیں؟ باقی فنکاروں کو اپنے ہی حق کے لیے آخر کب تک تڑپایا جائے گا؟ اسلام آباد سے دور کراچی میں اکیلے رہ کر بھاری کرائے، بجلی کے بل اور گھریلو اخراجات برداشت کرنے والے اداکار نے دوٹوک سوال داغا کہ اگر وہ اپنے ملازمین کو وقت پر تنخواہ دے سکتے ہیں تو پروڈکشن ہاؤسز فنکاروں کا حق کیوں دبا لیتے ہیں؟ لیکن اصل ستم تو اس کے بعد شروع ہوا۔ جب آغا مصطفیٰ نے اپنے جائز پسینے کی کمائی مانگی تو الٹا ان پر 'تنگ کرنے' کا الزام تھوپ دیا گیا اور پس پردہ انہیں آئندہ کام نہ دینے کی دھمکیاں اور مہم شروع کر دی گئی۔ اپنا حق مانگنے پر ایک فنکار کے کیریئر کو داؤ پر لگانے کے اس سنسنی خیز انکشاف نے ڈرامہ انڈسٹری میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے اور فنکاروں کے بنیادی حقوق پر ایک نئی جنگ چھیڑ دی ہے۔
News Source: Express News