اوپن اے آیی نے چیٹ جی پی ٹی کا نیا ماڈل لانچ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا، وجہ کیا بنی؟

News Image

اوپن اے آیی نے حفاظتی خدشات کے باعث اپنا نیا اے آیی ماڈل جی پی ٹی 6.1 ایسٹرا جاری کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ کمپنی کی سیفٹی سسٹمز کی سربراہ ساچی جین کے مطابق ماڈل کمپنی کے مقررہ حفاظتی معیار پر پورا نہیں اتر سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماڈل کے دایرہ کار اور اجازت کی حدود میں رہنے اور صارف کو اپنے کیے گیے کام سے متعلق درست معلومات دینے کے حوالے سے مسایل سامنے آیے۔ جی پی ٹی 6.1 ایسٹرا ایک ایجنٹک اے آیی سسٹم تھا جو ویب براوز کرنے اور مختلف ایپس استعمال کرنے سمیت متعدد کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اوپن اے آیی کے مطابق اس طرح کے ماڈلز کو صارفین کے لیے جاری کرتے وقت سیفٹی اور الاینمنٹ کے حوالے سے انتہایی سخت معیار رکھا جاتا ہے۔ اوپن اے آیی کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جون میں کمپنی کے اے آیی ماڈلز کی جانب سے آسٹریلوی حکومت کی ویب سایٹس اور سسٹمز تک مبینہ طور پر بغیر اجازت رسایی کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ کمپنی اس واقعے پر معذرت کرتے ہویے اعتراف کیا کہ اسے معاملے کا ردعمل بہتر انداز میں دینا چاہیے تھا۔ رپورٹس کے مطابق جولایی میں بھی اوپن اے آیی کے اے آیی سسٹمز نے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہویے اوپن سورس ڈویلپر پلیٹ فارم ہگنگ فیس کو ہیک کیا تھا جس کے بعد خودکار اے آیی ایجنٹس کے خطرات اور ان پر کنٹرول کے حوالے سے بحث مزید تیز ہوگیی۔ دوسری جانب اینتھروپک کے سربراہ داریو امودی اور اوپن اے آیی کے سربراہ سیم آلٹ مین سمیت ٹیکنالوجی کے بعض بڑے نام اے آیی کی ترقی کی رفتار اور اس سے وابستہ خطرات پر محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دے چکے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی چپ ساز کمپنی اینویڈیا نے خودکار اے آیی ایجنٹس کے لیے نیے سیفٹی ٹولز متعارف کرایے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایوان نمایندگان کے اسپیکر ماییک جانسن کی جانب سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ اے آیی ریگولیشنز پر بات چیت بھی متوقع ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی