
دنیا بھر میں ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے جی 7 ممالک نے ہنگامی اسٹریٹجک ذخائر سے 10 کروڑ بیرل تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ جی 7 کے رہنماوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی قیادت میں منعقد ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران کیا۔ پیٹرولیم کے 10 کروڑ اسٹریٹجک ذخائر کا اجرا عالمی توانائی ایجنسی کے ذریعے فوری طور پر شروع کیا جائے گا جو چار ماہ تک جاری رہے گا، جبکہ ڈیزل کا ایک بڑا حصہ ابتدائی 20 دنوں کے اندر مارکیٹ میں لایا جائے گا۔ جی 7 کے ہنگامی اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ رکن ممالک اور شراکت داروں کے درمیان توانائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل محدود نہیں کی جائے گی بلکہ باہمی تعاون جاری رہے گا۔ مزید برآں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ تقریباً 20 دن کے اندر عالمی توانائی ایجنسی اقدامات سے متعلق جائزہ رپورٹ پیش کرے گی، اور ضرورت پڑنے پر آنے والے دنوں میں مزید ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں لانے پر بھی بات چیت ہوگی۔ عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے بتایا ہے کہ ذخائر جاری کرنے کے اس فیصلے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً پانچ ڈالر فی بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں فراہم کریں ورنہ امریکا سے یورپ کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ خیال رہے کہ برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی مرتبہ دو پاونڈ فی لیٹر تک جا پہنچی ہے، تاہم برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں ڈیزل کی فراہمی مستحکم ہے اور ایندھن مختلف ذرائع سے دستیاب ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات محض گاڑیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ سامان کی ترسیل، خوراک اور عام استعمال کی اشیا کے نرخ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کیے جانے کے بعد مارچ سے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس سے عالمی منڈی میں پیٹرول، ڈیزل اور گیس کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے اور ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں پوری دنیا کو مہنگائی کے ایک بڑے سیلاب کا سامنا ہے۔
News Source: Express News