🤖 YourBolt AI
✖
Assalam o Alaikum! Main YourBolt AI hoon. Aap mujhse khabron, sports, ya kisi bhi topic ke baare mein sawal pooch sakte hain.

حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات بے نتیجہ، پہلے دور کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

News Image

وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہو گیا ہے، دوسرا دور کل ہوگا جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کے پہلے دور کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجہ اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس پر مشتمل اپوزیشن وفد اسپیکر چیمبر پہنچا۔ اپوزیشن وفد تقریبا 30 منٹ کی تاخیر سے اسپیکر چیمبر پہنچا، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی، امیر مقام، سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر، اعجاز جاکھرانی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری پر مشتمل حکومتی مذاکراتی کمیٹی بھی اسپیکر آفس پہنچ گئی۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے پی ٹی آئی سے بات چیت سے قبل غیر رسمی اجلاس کیا اور قانونی نکات پر غور کیا۔ کمیٹی نے پی ٹی آئی سے صرف سیاسی معاملات پر بات کرنے کی حکمت عملی تیار کی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی، جس میں ملک کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال سمیت حکومت اور اپوزیشن کمیٹیوں کے وفود کی ملاقات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پارلیمنٹ ہاوس میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ ہمیں بات چیت کرنے میں جھجک محسوس ہوئی نہ کبھی انا آڑے آئی، پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے ہمیشہ مسائل بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ کرے اپوزیشن بھی بات چیت کے اس موقع کو نہ گنوائے۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے مذاکرات شروع ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں کسی ایک خواہش کے تابع ہو کر ملک کے لیے مسائل پیدا نہ کریں۔ اللہ کرے اپوزیشن جماعتیں لانگ مارچ کی کال واپس لے لیں، عام پاکستانیوں کے مسائل سامنے آنے چاہئیں نہ کہ سیاسی جماعتوں کے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آج اسپیکر چیمبر میں مذاکرات ہوں گے، مذاکرات کی دعوت وزیر اعظم نے خود قائد حزب اختلاف کو دی ہے۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں، اپوزیشن آج آ رہی ہے تو اچھی امید کے ساتھ بیٹھیں گے۔ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ بات چیت سے مسائل کا حل ملک اور سیاسی صورتحال کے لیے بہتر ہے، مذاکرات میں کئی موضوعات زیر بحث آئیں گے، ممکنہ حل حکومت کے پاس ہوا تو پیش کریں گے۔ اپوزیشن کو سیاسی رویہ اختیار کرنا پڑے گا، اسلام آباد پر یلغار اور چڑھائی سے اجتناب کرنا ہوگا جبکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عدالتوں کے معاملات کا فیصلہ عدالتوں نے ہی کرنا ہے، سیاسی معاملات میز پر بیٹھ کر حل ہو سکتے ہیں، بیٹھ کر جو بھی بات کرنا چاہیں وہ کریں۔ سیاسی اصولوں اور قانون کے مطابق جواب دیں گے۔ یہ طریقہ نہیں کہ وزیر اعظم کو خط لکھ سکتے ہیں مگر مل نہیں سکتے، اس قسم کی سوچ سیاسی رواداری کو نقصان پہنچاتی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کے پہلے دور کی اندرونی کہانی کے مطابق مذاکرات شروع ہوتے ہی محسن نقوی نے کے پی حکومت اور سہیل آفریدی کے خلاف چارج شیٹ پیش کی، محسن نقوی نے ٹی ٹی پی کے حملوں اور امن و امان کے بگاڑ کو کے پی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ علامہ ناصر عباس نے کے پی حکومت اور سہیل آفریدی کے خلاف چارج شیٹ کو مکمل طور پر مسترد کیا اور کہا کہ ہم دہشت گردی پر نہیں بلکہ سیاسی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں، آپ دہشت گردی سے جوڑ رہے ہیں جبکہ آپ کے ادارے ممبران اسمبلی کو گرفتار کر رہے ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے۔ ذرائع کے مطابق علامہ ناصر عباس نے کہا کہ آپ اپنی قیادت کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر پی ٹی آئی رہنماوں سے فیصلوں کی توقع کیوں کی جاتی ہے، مسائل کا حل تب نکل سکتا ہے جب محمود خان اچکزئی اور میری ملاقات بانی پی ٹی آئی سے ہوگی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ شیری رحمان نے کہا کہ اس کی کیا ضمانت ہے کہ ملاقات کے بعد مسائل حل ہو جائیں گے، ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے کہا کہ ہم اس کی ذمہ داری لیتے ہیں کہ جب ہماری بانی سے ملاقات ہوگی تو حالات بہتر ہوں گے، جب تک ملاقات نہیں ہوتی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر مذاکرات کے دوران نماز کا وقفہ لینے کا کہا گیا جبکہ اپوزیشن قیادت اور محمود خان اچکزئی کے موقف کو بیرسٹر گوہر نے سامنے رکھا، پہلے سیشن میں محسن نقوی، علامہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے بات کی، بیرسٹر گوہر نے محمود خان اچکزئی کے بتائے ہوئے نکات کو حکومتی ٹیم کے سامنے رکھا۔ وقفے کے دوران حکومت اور پی ٹی آئی کمیٹی کے ارکان کی آپس میں مشاورت ہوئی جبکہ حکومتی وفد کانفرنس روم میں موجود رہا، دونوں مذاکراتی کمیٹیوں نے اب تک کی صورتحال پر غور کیا۔ بعد ازاں دونوں فریقین نے 20، 20 منٹ الگ الگ مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق حکومتی ارکان نے وزیر اعظم جبکہ اپوزیشن نے اپنی دیگر قیادت کو اب تک کی بات چیت سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اپنے مطالبات سے آگاہ کر دیا، تاہم مذاکرات میں تاحال ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ اپوزیشن اتحاد کا وفد پارلیمنٹ ہاوس سے روانہ ہو گیا، پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ امید ہے مذاکراتی عمل درست سمت کی جانب جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کا مشاورتی اجلاس علامہ راجہ ناصر عباس کی رہائش گاہ پر طلب کر لیا گیا ہے، اجلاس میں مذاکراتی دور کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت بھی کی جائے گی۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن نے اپنی اپنی باتیں کی ہیں، کل دوپہر 2 بجے دوبارہ ملاقات ہوگی، فی الحال اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت کا رویہ مناسب تھا، جب مذاکرات کے لیے کوئی بیٹھتا ہے اور رویہ مناسب نہ ہو تو بیٹھ ہی نہیں سکتے۔ میں ابھی اس حالت میں نہیں ہوں کہ مزید کوئی بات کروں۔ انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مذاکرات جاری رہیں گے، کل پھر ملاقات ہوگی اور بات چیت آگے بڑھے گی، اس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ابھی تک جو بات چیت ہوئی ہے اس کے بعد کل دوپہر دو بجے دوبارہ مذاکرات ہوں گے، اس کے بعد ہی ہم کچھ کہنے کے قابل ہوں گے۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت سے اچھے ماحول میں ہمارے مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کا اگلا دور کل دوپہر 2 بجے ہوگا، امید کرتے ہیں کہ مذاکرات میں معاملات بہتری کی طرف جائیں گے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم