
متحدہ عرب امارات کے ماہرین امراض جگر نے خبردار کیا ہے کہ جگر کی بیماریاں برسوں تک خاموشی سے بڑھتی رہتی ہیں اور متعدد افراد کو اس وقت تک اپنی بیماری کا علم نہیں ہوتا جب تک جگر شدید نقصان سے دوچار نہ ہو جائے۔ طبی ماہرین کے مطابق جگر میں درد محسوس کرنے والے اعصابی ریشے موجود نہیں ہوتے، جبکہ یہ عضو اپنی حیران کن صلاحیت کے باعث 70 سے 80 فیصد تک خراب ہونے کے باوجود بھی اپنے کام معمول کے مطابق انجام دیتا رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ فیٹی لیور اور جگر کے دیگر امراض 10 سے 30 سال تک کسی بھی واضح علامت کے بغیر اندر ہی اندر بڑھتے رہتے ہیں۔ بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں مریض جگر کے مکمل طور پر ناکارہ ہونے، سروسس اور یہاں تک کہ جگر کی پیوند کاری کی نوبت تک پہنچ سکتا ہے۔ فیٹی لیور کے کیسز میں تیز رفتار اضافہ اندازوں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے 30 سے 40 فیصد بالغ افراد فیٹی لیور کا شکار ہیں۔ اس بیماری کو اب میٹابولک ڈس فنکشن ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹیوٹک لیور ڈیزیز بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ جسمانی میٹابولزم میں پیدا ہونے والی خرابی ہے۔ اگر اس عارضے کا بروقت علاج نہ کروایا جائے تو یہ جگر کی سوزش، فائبروسس، سروسس اور جگر کے مکمل ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ آج کل جگر کی پیوند کاری کی ایک بڑی وجہ بھی یہی مرض بنتا جا رہا ہے۔ نوجوان بھی خطرے کی زد میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ بیماری اب محض عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں رہی بلکہ موٹاپے، اضافی وزن، ذیابیطس اور میٹابولک سنڈروم کی وجہ سے نوجوانوں میں بھی جگر کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق موٹاپے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس میں اضافے کے ساتھ ساتھ فیٹی لیور کے کیسز بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل میں سروسس اور جگر کے پیچیدہ امراض کے مریضوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ علامات کیوں ظاہر نہیں ہوتیں؟ ماہرین کے مطابق جگر کی اس خاموشی کی دو اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ جگر کے اندر درد کے اعصاب موجود نہیں ہوتے، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جگر کا ایک بڑا حصہ خراب ہونے کے باوجود اس کا باقی ماندہ حصہ جسم کی ضروریات پوری کرتا رہتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اگر معمولی علامات ظاہر بھی ہوں تو ان میں مسلسل تھکن، جسمانی کمزوری، توانائی میں کمی یا پیٹ کے اوپری حصے میں ہلکی سی بے آرامی شامل ہیں جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس، موٹاپے، ہائی کولیسٹرول، میٹابولک سنڈروم، شراب نوشی اور غیر متحرک طرز زندگی رکھنے والے افراد میں فیٹی لیور کا خطرہ واضح طور پر زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق ٹائپ ٹو ذیابیطس کے تقریباً 60 فیصد مریض فیٹی لیور کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ نارمل وزن رکھنے والے افراد بھی اس بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر خاندان میں جگر کی بیماریوں کی تاریخ موجود ہو، غذا غیر متوازن ہو یا جسمانی سرگرمی کم ہو۔ جم جانے والے نوجوان محتاط رہیں ڈاکٹروں کے مطابق آج کل ایسے افراد بھی بڑی تعداد میں سامنے آ رہے ہیں جو نہ شراب پیتے ہیں، نہ موٹاپے کا شکار ہیں اور نہ ہی خود کو بیمار سمجھتے ہیں، مگر ان کے جگر میں چربی جمع ہو چکی ہوتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ میٹھی غذائیں، پٹھے بنانے کے لیے استعمال ہونے والے غیر معیاری جم سپلیمنٹس، نیند کی کمی، ذہنی دباو اور طویل وقت تک بیٹھے رہنے کی عادت بھی جگر کو تباہ کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر ضروری ادویات اور جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ غیر معیاری سپلیمنٹس کا بے جا استعمال بھی جگر پر اضافی دباو ڈالتا ہے۔ ڈاکٹر سے کب رجوع کیا جائے؟ اگرچہ ابتدائی مراحل میں یہ مرض خاموش رہتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق درج ذیل علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے: - مسلسل تھکن یا کمزوری - بغیر وجہ وزن میں کمی - بھوک کم لگنا - پیٹ میں درد یا سوجن - مسلسل متلی کی شکایت جبکہ مندرجہ ذیل علامات خطرے کی گھنٹی سمجھی جاتی ہیں: - جلد یا آنکھوں کا زرد ہو جانا - پیشاب کا رنگ گہرا ہونا - پاخانے کا غیر معمولی ہلکا رنگ - ٹانگوں یا پیٹ میں سوجن - معمولی چوٹ پر بھی جلد پر نیل پڑ جانا - ذہنی الجھن یا ہوش و حواس میں تبدیلی - قے یا پاخانے میں خون آنا بروقت معائنہ اور بچاو کے طریقے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر کی زیادہ تر بیماریاں اگر ابتدائی مرحلے میں پکڑ میں آ جائیں تو ان کی رفتار کو سست کیا جا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں نقصان کو جزوی طور پر واپس بحال بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وزن میں کمی، شوگر اور کولیسٹرول پر قابو، متوازن غذا، روزانہ ورزش اور صحت مند طرز زندگی اپنانا جگر کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ خطرے سے دوچار افراد سال میں کم از کم ایک بار جگر کے فنکشن ٹیسٹ، بلڈ شوگر، کولیسٹرول اور الٹراساونڈ یا فائبرو اسکین ضرور کروائیں۔ ماہرین کے مطابق فائبرو اسکین ایک آسان اور چند منٹوں میں مکمل ہونے والا ٹیسٹ ہے جس کے ذریعے جگر میں چربی اور سختی کا بروقت اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چونکہ جگر خود کبھی وارننگ نہیں دیتا، اس لیے باقاعدہ معائنہ ہی اپنی صحت کے دفاع کی سب سے موثر حکمت عملی ہے۔
News Source: Express News