-->

اے آئی سے انسانیت کے خاتمے کا خطرہ بڑھ گیا، ماہرین کی شدید تشویش

News Image

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں ٹیکنالوجی کے میدان میں بے شمار نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں اس کے ممکنہ خطرات پر بحث بھی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اے آئی کمپنی اینتھراپک کے سابق محقق جیکب کوکسن نے نوکری چھوڑتے ہوئے سنگین الزامات لگائے ہیں کہ اینتھراپک اور اس کی حریف کمپنی اوپن اے آئی نئی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں انسانی زندگیوں کے لیے انتہائی بڑے خطرات مول لے رہی ہیں۔ کوکسن دونوں اداروں میں محقق کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ انہوں نے اس خدشے کے پیش نظر استعفیٰ دیا کیونکہ اے آئی کمپنیاں ہماری زندگیوں کے ساتھ جوا کھیل رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس شعبے سے وابستہ بعض ماہرین کو پختہ یقین ہے کہ اے آئی رواں دہائی کے اختتام تک تمام انسانیت کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس نئی ٹیکنالوجی کی طاقت کو ہرگز معمولی نہ سمجھا جائے۔ کوکسن کا کہنا تھا کہ مستقبل کے جدید سسٹمز انسانی ذہانت سے آگے نکل سکتے ہیں، جو تباہ کن سائبر حملے کرنے، اہم شعبوں میں تیز ترین تبدیلیاں لانے اور دنیا کی طاقت و وسائل پر قابض ہونے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ان کی اس تحریر کو 7 کروڑ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔ اے آئی کی اندھی دوڑ اور حفاظتی خدشات کوکسن کے موقف نے سلیکون ویلی میں اس پرانی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کو محفوظ انداز میں تیار اور قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ اینتھراپک اور اوپن اے آئی جدید ترین ماڈلز بنانے کی ہوڑ میں مصروف ہیں، جبکہ دونوں کمپنیوں کی ممکنہ تاریخی ابتدائی عوامی پیشکش یعنی آئی پی او کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ اس دوران کئی محققین یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اے آئی کی رفتار کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے سست کیا جائے۔ اوپن اے آئی کے چیف سائنٹسٹ جیکب پاشوکی نے بھی اپنے بلاگ میں متنبہ کیا کہ کوئی بھی کمپنی تاحال الائنمنٹ اور نگرانی کے مسائل کو اس سطح پر حل نہیں کر سکی کہ جدید ماڈلز کو تیز ترین رفتار کے ساتھ طویل مدت تک ذمے داری سے آگے بڑھایا جا سکے۔ اے آئی میں الائنمنٹ سے مراد ایسے نظام تیار کرنا ہے جو انسانی اقدار، مقاصد اور احکامات کے عین مطابق کام کریں۔ پاشوکی کا کہنا ہے کہ جب تک مشترکہ حفاظتی اصول طے نہیں ہو جاتے، اے آئی کی رفتار میں رضاکارانہ کمی لانا ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی حکومتوں پر بھی زور دیا کہ وہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو اولین ترجیح دیں۔ خود کو بہتر بنانے والی ٹیکنالوجی کا خطرہ اس مباحثے کا اہم نکتہ ریکرسیو سیلف امپروومنٹ یعنی مصنوعی ذہانت کا اپنے اگلے روپ کو خود ہی ڈیزائن اور تیار کرنا ہے۔ اگرچہ یہ صلاحیت ابھی عملی طور پر موجود نہیں، مگر اینتھراپک اور اوپن اے آئی سمیت متعدد کمپنیاں خبردار کر چکی ہیں کہ اگر نظام انسانوں کے بغیر خود کو مسلسل بہتر بنانے لگا تو اسے قابو میں رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ کوکسن نے الزام عائد کیا کہ دونوں کمپنیاں غیر ذمے دارانہ انداز میں خود کو اپ گریڈ کرنے والی سپر انٹیلی جنس کی جانب لپک رہی ہیں۔ اینتھراپک میں اے آئی الائنمنٹ کے محقق ایون ہبنگر نے بھی کوکسن کے خدشات کی تائید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اگلی دہائی میں اے آئی کے ہاتھوں دنیا کے خاتمے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپر انٹیلی جنس کے حفاظتی مسائل کا فی الحال کوئی حتمی حل موجود نہیں اور کمپنی اس سمت میں واضح پیش رفت دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ پی ڈوم کیا ہے؟ اے آئی کے ہاتھوں انسانی تباہی کا خوف کوئی نیا موضوع نہیں۔ محققین اس خطرے کو پی ڈوم کی اصطلاح سے ظاہر کرتے ہیں، جس سے مراد ایسے بدترین نتائج کا تخمینہ ہے جس میں بڑے پیمانے کی تباہی یا انسانی وجود کا خاتمہ شامل ہو۔ سن 2023 میں بھی اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور اینتھراپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی سمیت کئی نامور شخصیات نے ایک متفقہ بیان پر دستخط کیے تھے، جس میں اے آئی کے خطرے کو وبائی امراض اور ایٹمی جنگ کے برابر عالمی چیلنج قرار دیا گیا تھا۔ امریکی کانگریس میں قانون سازی کی کوششیں امریکی قانون ساز بھی اس صورت حال پر سرگرم ہو رہے ہیں، تاہم سخت قوانین بنانے پر اب تک کوئی مکمل اتفاق نہیں ہو سکا۔ جولائی میں ریپبلکن نمائندے جے اوبرنولٹے اور ڈیموکریٹ لوری ٹراہن نے فرنٹیئر ایکٹ پیش کیا، جس کا مقصد جدید ماڈلز کی نگرانی کا ایک باقاعدہ فریم ورک بنانا ہے۔ اسی ماہ سینیٹر برنی سینڈرز اور گریگ کاسر نے بین آرٹیفیشل سپر انٹیلی جنس ایکٹ کا بل پیش کیا۔ اس تجویز کے تحت حفاظتی اصول بننے تک جدید تحقیق کو عارضی طور پر روکنے کی سفارش کی گئی ہے۔ لوری ٹراہن نے اپنے بیان میں کہا کہ حفاظتی محققین نوکریاں چھوڑ رہے ہیں، خطرناک ماڈلز لیبارٹریوں سے باہر نکل رہے ہیں اور کمپنیاں مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں، اس لیے کانگریس کو فوری طور پر اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ ڈیٹا سینٹرز کے خلاف عوامی برہمی مصنوعی ذہانت کے خلاف غصہ صرف سافٹ ویئر تک محدود نہیں۔ ان سسٹمز کو چلانے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز بھی امریکا میں شدید عوامی مخالفت کی زد میں ہیں۔ یہ مراکز بھاری کمپیوٹنگ ہارڈویئر کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ریپبلکن سینیٹوریل کمیٹی نے گزشتہ ماہ ڈیٹا سینٹرز کو آنے والے انتخابات کا ایک بڑا اور اہم مسئلہ قرار دیا تھا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی کمپنیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو اعتماد میں لینے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ عوام کو یہ یقین دلائیں کہ ٹیکنالوجی کے فوائد محض چند بڑے اداروں تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ ممکنہ فوائد اور خطرات پر عالمی بحث مزید گہری ہو گئی ہے، جبکہ محققین اور عالمی حکومتیں ٹیکنالوجی کی ترقی اور انسانی بقا کے درمیان توازن قائم کرنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی