
ایف بی آر نے ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں 9 ارب 41 کروڑ روپے کا فراڈ پکڑ لیا ہے، جس میں صرف ایک کیس میں 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے جبکہ ملک بھر میں 48 فوجداری انکوائریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس دہندگان نے پرانی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں غیر قانونی ترامیم کر کے غیر ظاہر شدہ اثاثے شامل کیے۔ 85 ٹیکس دہندگان نے 2014 سے 2019 کی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں بعد میں ترامیم کیں۔ ان ترامیم میں نقد رقم، سونا، پرائز بانڈز، جائیدادیں اور کاروباری سرمایہ ظاہر کیا گیا۔ مارچ 2025 سے جون 2026 کے دوران پرانی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں ترامیم کی گئیں۔ ایف بی آر کے مطابق ریٹرن کی مقررہ تاریخ کے 5 سال بعد ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ لاہور میں ایک ٹیکس دہندہ نے 2015 کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے فرضی فنڈز شامل کیے، انہی فنڈز سے مئی اور جون 2026 میں 6 کروڑ 44 لاکھ روپے کی 7 جائیدادیں خریدی گئیں جبکہ ٹیکس دہندہ فرضی فنڈز کے ذرائع کی وضاحت نہیں کر سکا۔ ان فراڈز پر ملک بھر میں 48 فوجداری انکوائریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ترجمان ایف بی آر کا کہنا ہے کہ غیر واضح دولت کو ٹیکس نظام کے ذریعے جائز بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
News Source: Express News