
ایک اسرائیلی عہدیدار نے دعوی کیا ہے کہ اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو ہائی جیک یا گرانے کی کوشش کرنے والے عمانی معاون پائلٹ کے سوشل میڈیا اکاونٹس پر یہودیوں کے قتل سے متعلق مواد موجود ہے۔ اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ پرواز کے دوران جب عمانی معاون پائلٹ جہاز کو ہائی جیک کرنے میں ناکام رہا اور مسافروں نے اسے قابو کر لیا تو وہ چیخ کر کہنے لگا کہ مجھے مار دو۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ طیارے کو اغوا کرنا چاہتا تھا یا پھر جہاز کو تباہ کر کے تمام مسافروں سمیت خود کو ہلاک کرنا چاہتا تھا، تاہم اس کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور تفتیش کے دوران اس کے سوشل میڈیا اکاونٹس سے معلوم ہوا ہے کہ وہ شدت پسند نظریات سے متاثر تھا اور ان پر یہودیوں کو قتل کرنے کی باتیں کی گئی تھیں۔ اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاون پائلٹ خودکشی کا ارادہ رکھتا تھا اور طیارے کو گرانے کی کوشش کر سکتا تھا۔ عہدیدار نے بتایا کہ ملزم کو ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات کے حوالے کیا جائے گا جبکہ اسرائیل بھی اس معاملے کی تحقیقات کا حصہ بنے گا۔ اسرائیل اپنے طور پر بھی اس واقعے کی چھان بین کر رہا ہے اور سیکیورٹی طریقہ کار میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود گرفتار پائلٹ کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، البتہ بتایا گیا ہے کہ دہری شہریت کا حامل یہ پائلٹ عمانی نژاد ہے اور سخت گیر نظریات رکھتا ہے۔ گزشتہ روز دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز میں اس معاون پائلٹ نے سینیئر پائلٹ پر چاقو سے حملہ کر کے طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں طیارہ 10 ہزار فٹ نیچے آ گیا تھا۔
News Source: Express News