🤖 YourBolt AI
✖
Assalam o Alaikum! Main YourBolt AI hoon. Aap mujhse kuch bhi poochein — khabrein, sports, general knowledge, ya koi bhi sawal. Main Roman Urdu mein jawab dunga.

آئی ایم ایف کی پاکستان میں پیٹرول پر سبسڈی اسکیم کی مخالفت

News Image

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں ایندھن پر سبسڈی یا کراس سبسڈی دینے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ ریلیف اسکیم میں تین ماہ سے زیادہ توسیع ممکن نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران شرح مبادلہ اور شرح سود سمیت متعدد نکات پر اختلاف برقرار ہے۔ آئی ایم ایف نے مارکیٹ بیسڈ شرح مبادلہ رکھنے پر زور دیتے ہوئے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت شرح سود برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے۔ آئی ایم ایف حکام نے ایندھن پر سبسڈی یا کراس سبسڈی دینے کی مخالفت کی ہے اور فیول پر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرز پر مستحق لوگوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کی تجویز دی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان پیٹرول کی قیمت اور گیس کمپنیوں کے 1.4 ٹریلین روپے کے قابل وصول واجبات پر بھی تعطل برقرار ہے، تاہم حکومت نے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے فیول ریلیف اسکیم فوری ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ فیول ریلیف اسکیم میں تین ماہ سے زیادہ توسیع ممکن نہیں اور تین ماہ کی فیول سبسڈی کی اصل لاگت 75 ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔ پاکستانی مذاکراتی ٹیم نے آئی ایم ایف کو پیٹرول کی لاگت کی تفصیلی تقسیم پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ درآمدی پیٹرول کی قیمت تقریباً 250 روپے ہے جبکہ صارفین کو 390 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے، پیٹرول پر تقریباً 110 روپے فی لیٹر ٹیکس اور 27 روپے مختلف مارجنز ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے گیس کمپنیوں کے 1.4 ٹریلین روپے کے واجبات معاف کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا حجم 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ گیس کمپنیوں کے 850 ارب روپے کے منافع سے قرضہ نمٹانے کی تجویز پر بھی آئی ایم ایف نے تحفظات ظاہر کیے ہیں اور گیس شعبے کے گردشی قرضے کے انتظامی منصوبے پر تفصیلی اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے۔ پیٹرولیم شعبے کے دو اہم معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا البتہ آئی ایم ایف نے گیس سیکٹر میں اصلاحات اور گیس چوری میں کمی کو سراہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، جن میں پاکستانی ٹیم نے مشن کو ملکی معاشی اعداد و شمار کے تخمینوں سے آگاہ کر دیا ہے۔ بریفنگ میں آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ ملکی معاشی منظرنامہ مستحکم ہے، روپیہ مستحکم ہے اور مہنگائی میں کمی جبکہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے، تاہم حکومت کا 4 فیصد معاشی نمو کا ہدف برقرار رہے گا۔ ذرائع کے مطابق معاشی صورتحال پر مشرق وسطی کے تنازع کا اثر نہیں پڑے گا لیکن شرح مبادلہ اور شرح سود پر اختلاف برقرار ہے۔ آئی ایم ایف کا موقف ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود سخت رکھی جائے۔ مذاکرات میں آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال میں ملکی برآمدات 34 ارب ڈالر اور ترسیلات زر 45.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جبکہ درآمدات 69 سے 70 ارب ڈالر اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ 2.5 سے 3 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف کا مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود سخت رکھنے پر زور ہے جبکہ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ دسمبر کے بعد مہنگائی میں بتدریج کمی متوقع ہے۔ عالمی سطح پر تیل 80 ڈالر فی بیرل رہا تو مہنگائی 7.5 فیصد تک جا سکتی ہے، اور اگر تیل 100 ڈالر فی بیرل رہا تو مہنگائی 8.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ روپے کا استحکام درآمدی مہنگائی کم رکھنے میں مددگار ہوگا۔ حکام کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر سے بیرونی شعبہ مستحکم رہنے کی توقع ہے، ترسیلات زر میں پہلے دو ماہ کے دوران 14.7 فیصد اضافہ ہوا ہے، خوراک کی مقامی پیداوار سے درآمدی بل محدود رہنے کی امید ہے، اور مشرق وسطی کے تنازع کے باوجود 4 فیصد معاشی نمو کا ہدف برقرار ہے، البتہ مہنگا تیل اور ترسیل میں رکاوٹیں معاشی خطرات بن سکتے ہیں۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم