
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ اخروٹ کا استعمال انسانی مزاج پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے جائزہ لیا کہ آٹھ ہفتوں تک مسلسل اخروٹ کھانے سے نوجوانوں کے موڈ پر کیا اثر پڑتا ہے اور کیا اس کا تعلق جسم میں پیدا ہونے والی حیاتیاتی تبدیلیوں سے بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اخروٹ میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، ٹرپٹوفین، فائبر اور پولی فینولز پائے جاتے ہیں۔ یہ اجزا دماغی صحت اور موڈ سے جڑے مختلف جسمانی افعال میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ محققین نے شرکا کے پیشاب میں خاص طور پر ایچ آئی اے اے-5، کورٹیسول اور یورولیتھنز کی سطح کا معائنہ کیا۔ ایچ آئی اے اے-5 جسم میں سیروٹونن کے افعال کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ یورولیتھنز اس وقت بنتے ہیں جب آنتوں کے جراثیم اخروٹ میں موجود بعض مرکبات کو تبدیل کرتے ہیں۔ اس مطالعے میں 20 سے 35 سال کی عمر کے افراد شامل تھے۔ ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد 84 میں سے 36 افراد کو منتخب کیا گیا، جن میں سے 31 افراد نے تحقیق کے دونوں مراحل مکمل کیے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اخروٹ کے استعمال کے دوران موڈ کی مجموعی خرابی میں کنٹرول گروپ کے مقابلے 4.85 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ شرکا میں غصے اور تھکن کے احساس میں بھی کمی دیکھی گئی، تاہم تفصیلی تجزیے کے بعد یہ فرق اعداد و شمار کے لحاظ سے زیادہ نمایاں نہیں رہا۔ اس کے علاوہ باہمی رویے، توانائی کی سطح، ذہنی پریشانی یا عمومی خوشحالی میں کوئی بڑا فرق دیکھنے میں نہیں آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اخروٹ کے استعمال، انسانی موڈ اور حیاتیاتی تبدیلیوں کے تعلق کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن اس کی حتمی تصدیق کے لیے مزید وسیع اور طویل مدتی تحقیق درکار ہے۔
News Source: Express News