
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلائی دبئی کے طیارے پر مبینہ حملے میں ملوث عمانی معاون پائلٹ کے ایران سے ممکنہ رابطوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وائٹ ہاوس سے روانگی کے وقت صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا فلائی دبئی کے معاون پائلٹ کا ایران سے کوئی تعلق ہے؟ اس پر امریکی صدر نے بتایا کہ اس معاملے پر تفتیش جاری ہے اور متعلقہ فریق یعنی اسرائیل اور متحدہ عرب امارات اس سلسلے میں امریکا کے ساتھ مکمل معاونت اور مشاورت کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اس سوال کا جواب ’ہاں‘ میں ہے۔ تاہم جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا اس معاون پائلٹ کو ایران نے کسی منصوبے کے تحت بھیجا تھا یا ایرانی پاسداران انقلاب نے اسے تیار کیا تھا، تو صدر ٹرمپ نے محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر نے اپنی اس گفتگو میں واضح نہیں کیا کہ آیا فلائی دبئی کے واقعے سے متعلق انہیں کوئی انٹیلی جنس معلومات یا باقاعدہ بریفنگ دی گئی ہے یا نہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں زیادہ تر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملنے والی معلومات پر بھروسا کر رہے ہیں اور انہیں خود بھی یقین نہیں کہ یہ معلومات درست ہیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو مرتبہ فاکس نیوز سے گفتگو میں کہہ چکے ہیں کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ فلائی دبئی کے واقعے میں ایران ملوث تھا یا نہیں، البتہ اس امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ طیارے کو ہائی جیک یا تباہ کرنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار معاون پائلٹ کی مکمل شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی، سوائے اس کے کہ وہ عمانی نژاد ہے اور دوہری شہریت کا حامل ہے۔ واقعے کے اصل محرکات کا بھی تاحال اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔
News Source: Express News