
حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ بات چیت کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک مشترکہ وفد تشکیل دے دیا ہے۔ ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایوان صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورت حال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ بیان میں بتایا گیا کہ اس اہم ملاقات میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ڈاکٹر توقیر شاہ، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، شرجیل انعام میمن اور صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ بھی شریک تھے۔ اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ صدر مملکت اور وزیر اعظم نے ملکی سلامتی کے معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بنانے اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ایوان صدر کے مطابق اجلاس میں طے پایا کہ وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد کل پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کرے گا اور سیاسی صورت حال پر مذاکرات کرے گا۔ پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کے لیے بننے والے اس مشترکہ وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام شامل ہوں گے جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی کریں گے۔ اس سے قبل وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا کے بگڑتے حالات پر صدر مملکت کو اعتماد میں لیا اور صوبے سے متعلق تمام آئینی اور قانونی راستوں پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اس دوران صوبائی حکومت کی ناقص حکمرانی، دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لاتعلقی اور اس کے نقصانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایوان صدر کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیں گے۔
News Source: Express News