
وفاقی حکومت نے پاکستان کے انتہائی مطلوب مجرموں کے کوائف پر مشتمل ریڈ بک کو ڈیجیٹائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت پرانی تصاویر کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کی جائے گی۔ حکام کے مطابق ریڈ بک میں شامل بیشتر تصاویر کئی سال پرانی ہیں۔ اس لیے حکام جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسی تصاویر تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ مطلوبہ ملزمان آج کی تاریخ میں کس طرح دکھائی دیتے ہوں گے۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یہ تصاویر کوئی تصدیق شدہ حالیہ تصاویر نہیں ہوں گی بلکہ ان کے ممکنہ موجودہ حلیے کی عکاسی کریں گی۔ اس اقدام کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان ملزمان کی شناخت اور تلاش میں مدد فراہم کرنا ہے جن کی شکل و صورت پرانی تصاویر لیے جانے کے بعد سے کافی تبدیل ہو چکی ہو گی۔ اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر انتہائی خطرناک دہشت گردوں سے متعلق معلومات کو بھی جدید ڈیجیٹل نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔ تصاویر کو جدید بنانے اور ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنے کا بنیادی مقصد انتہائی مطلوب ملزمان کا کھوج لگانے اور ان کی گرفتاری کے لیے ریڈ بک کو مزید موثر بنانا ہے۔ رپورٹ میں ڈیجیٹائزیشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے کسی حتمی مدت کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس مخصوص ٹیکنالوجی کی تفصیل بتائی گئی ہے جو یہ تصاویر تیار کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
News Source: Express News