وزن میں کمی کے دوران جسم کی زائد چربی کہاں جاتی ہے؟ حیران کن انکشاف

News Image

جب جسم کا وزن کم ہوتا ہے تو جسم میں جمع چربی کا ایک بڑا حصہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا مختصر جواب سانس ہے، جی ہاں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ چربی سانس میں کیسے تبدیل ہوتی ہے؟ دراصل ہم جو چربی کھاتے ہیں وہ نظام انہضام میں پہنچ کر فیٹی ایسڈز میں ٹوٹ جاتی ہے۔ جسم ان فیٹی ایسڈز کا کچھ حصہ خلیات کی تعمیر، ہارمونز کی درستگی اور اندرونی اعضاء کی حفاظت جیسے اہم کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ اضافی مقدار ٹرائیگلیسرائیڈز کی شکل میں چربی کے خلیات کے اندر ذخیرہ ہو جاتی ہے جو بعد میں توانائی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔ انسانی جسم بنیادی طور پر چربی کو دو طریقوں سے ذخیرہ کرتا ہے: ایک وہ چربی جو صرف جلد کے نیچے پائی جاتی ہے، اور دوسری وہ اندرونی چربی جو اہم اعضاء کے گرد گہرائی میں بنتی ہے۔ جب جسم میں کیلوریز کی کمی واقع ہوتی ہے تو اعصابی اور ہارمونل پیغامات چربی کے خلیات کو متحرک کرتے ہیں تاکہ وہ ذخیرہ شدہ چربی کو توڑنا شروع کریں، اس عمل کو لائپولائسس کہا جاتا ہے۔ ٹرائیگلیسرائیڈز کے ٹوٹنے کے بعد، فیٹی ایسڈز خلیات کے اندر موجود مائٹوکونڈریا میں چلے جاتے ہیں، جنہیں جسم کا پاور اسٹیشن کہا جاتا ہے، جہاں یہ بیٹا آکسیڈیشن کے عمل سے گزرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران فیٹی ایسڈز ایسے مرکبات میں تبدیل ہو جاتے ہیں جن سے جسم توانائی بناتا ہے، جبکہ اس عمل کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی میٹابولزم کی حتمی پیداوار کے طور پر بنتے ہیں۔ اب یہاں سب سے حیران کن بات سامنے آتی ہے۔ اس مرحلے پر زیادہ تر چربی پسینے کے ذریعے خارج نہیں ہوتی بلکہ پھیپھڑوں کے راستے جب ہم سانس لیتے ہیں تب خارج ہوتی ہے۔ محققین کے اندازے کے مطابق، تقریباً 84 فیصد چربی کاربن ڈائی آکسائیڈ بن کر سانس چھوڑتے وقت جسم سے باہر نکل جاتی ہے، جبکہ تقریباً 16 فیصد پانی میں تبدیل ہو کر پسینے اور دیگر جسمانی رطوبتوں کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم