
کراچی کے ایک نوجوان کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اس وقت مختصر مدت کے لیے حراست میں لیا جب ایک مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم پر فرضی کردار کے قتل سے متعلق اس کے سوالات کو مشکوک قرار دیا گیا۔ پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی نوجوان نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ ایک فرضی کہانی لکھ رہا تھا جس میں ایک پولیس افسر نے مبینہ طور پر اس کے والد کی تذلیل کی تھی۔ اس کہانی کے تسلسل میں اس نے کلاڈ سے پوچھا کہ اس فرضی افسر کے خلاف کیا کارروائی کی جا سکتی ہے، بشمول اس کردار کو قتل کرنے کے طریقوں سے متعلق سوالات۔ این سی سی آئی اے کے مطابق، پلیٹ فارم کے حفاظتی نظام نے 4 ستمبر کو ان سوالات کو مشکوک قرار دیا۔ یہ معلومات مبینہ طور پر امریکہ کے ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کو بھیجی گئیں، جس نے بعد میں یہ معاملہ پاکستانی حکام کے حوالے کیا۔ اس اطلاع کے بعد این سی سی آئی اے نے نوجوان کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا۔ تفتیش کے دوران نوجوان نے حکام کو بتایا کہ اس کے والد کے ساتھ حقیقت میں کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا اور اس کا کسی کو بھی نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ یہ سب اس کی لکھی جانے والی ایک فرضی کہانی کا حصہ تھا۔ حکام نے تفتیش کے بعد اور یہ تصدیق کرنے پر کہ یہ سوالات کسی حقیقی جرم کے بجائے صرف ایک فرضی کہانی سے جڑے تھے، نوجوان کو رہا کر دیا۔
News Source: Express News