انکل کو جیل میں رکھا جائے جب تک وہ بوڑھا نہ ہوجائے؛ زیادتی کی شکار بچی کا جج سے مطالبہ

News Image

”جس شخص کو میں انکل کہتی تھی، اسے تب تک قید رکھا جائے جب تک وہ بوڑھا نہ ہو جائے...“ دہلی کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ایک سات سالہ معصوم بچی کے ان لرزہ خیز الفاظ نے پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، اور پھر عدالت کے فیصلے نے سب کو حیران کر دیا۔ یہ ہولناک کہانی 23 جولائی 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب دہلی کے بدھ وہار علاقے میں سُمِت شکلا نامی پڑوسی نے، جسے معصوم بچی اعتماد سے ’انکل‘ پکارتی تھی، درندگی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ لیکن یہ درندہ نہیں جانتا تھا کہ معصومیت کے پیچھے کتنا بڑا حوصلہ چھپا ہے۔ پوکسو عدالت کی جج رجنی رنگا کے سامنے جب یہ مقدمہ آیا تو انہوں نے فرانزک اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر نہ صرف مجرم کو آخری سانس تک قیدِ با مشقت کی سزا سنائی بلکہ تاریخ رقم کرتے ہوئے اس ننھی بچی کے نام ایک دل کو چھو لینے والا ذاتی خط بھی تحریر کیا۔ جج نے لکھا کہ تم ایک بہادر بچی ہو، عدالت نے تمہاری التجا سن لی ہے اور وہ مجرم اب ساری عمر لوہے کی سلاخوں کے پیچھے ہی سڑے گا۔ تم اب خوف چھوڑ کر آگے بڑھو، اسکول جاؤ، ہنسو، کھیلو اور اپنے خواب پورے کرو۔ دہلی ہائی کورٹ نے مجرم کی جانب سے سزا معطلی اور فوری ضمانت کی اپیل کو سختی سے مسترد کر دیا۔ عدالتِ عالیہ نے حکم جاری کیا کہ اب دس سال کی ہو چکی اس بچی کو 10 لاکھ 50 ہزار روپے معاوضہ ادا کیا جائے اور جج کا لکھا گیا تاریخی پیغام دو ہفتوں کے اندر پرنٹ کر کے خود اس کے ہاتھوں میں پہنچایا جائے، تاکہ وہ جان سکے کہ انصاف نے اس کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی