جسم کے اندر رابطے کا نیا نظام، انتہائی چھوٹے امپلانٹس کی راہ ہموار

News Image

سائنس دانوں نے ایک ایسا نیا مواصلاتی نظام تیار کیا ہے جو روایتی وائرلیس ٹیکنالوجی کے بجائے انسانی جسم کے ٹشوز کو ہی سگنلز منتقل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس نظام کو سوانز یعنی اسمارٹ وائرلیس آٹونومس نیٹ ورکنگ سسٹم کا نام دیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت جسم کے اندر موجود انتہائی چھوٹے امپلانٹس اور بیرونی طور پر پہنے جانے والے آلات ایک دوسرے سے سادہ برقی سگنلز کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ایک بیرونی ہب جسم کے ٹشوز میں مخصوص برقی لہریں بھیجتا ہے، جنہیں امپلانٹس میں لگے سادہ رسیورز فوری طور پر شناخت کر لیتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا ایک اہم فائدہ کم توانائی کا استعمال اور اس کا انتہائی چھوٹا سائز ہے۔ محققین کے مطابق امپلانٹس زیادہ توانائی صرف اس وقت خرچ کرتے ہیں جب انہیں فعال کیا جائے، جس سے اسٹینڈ بائی بجلی کی کھپت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بیٹری کی زندگی بلوٹوتھ پر مبنی ڈیزائنز کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہے۔ تجربات کے دوران محققین نے چوہے کے جسم پر نصب موشن سینسرز سے اگلی ٹانگوں کی حرکت ریکارڈ کی، جس کے بعد جسم کے اندر برقی سگنلز بھیج کر مخصوص امپلانٹڈ اسٹیمیولیٹرز کو متحرک کیا گیا۔ اس عمل سے چوہے کی متعلقہ پچھلی ٹانگ میں مربوط حرکت پیدا کرنے میں کامیابی ملی۔ محققین نے یہ بھی ثابت کیا کہ مختلف امپلانٹس کو الگ الگ برقی سگنلز کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے۔ ایک تجربے میں درجہ حرارت محسوس کرنے والا امپلانٹ جسم میں غیر معمولی حد تک زیادہ گرمی کا پتا لگا کر دوسرے مقام پر موجود امپلانٹ کو سگنل بھیجنے میں کامیاب رہا۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ جدید ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے طبی نظاموں کی بنیاد بن سکتی ہے جن میں جسم کے مختلف حصوں میں موجود سینسرز مسلسل معلومات اکٹھی کریں اور ضرورت پڑنے پر دوسرے امپلانٹس کو علاج یا دیگر کارروائی کے لیے خودکار طور پر فعال کریں۔ تاہم، انسانوں پر اس ٹیکنالوجی کے باقاعدہ طبی استعمال سے قبل مزید تحقیق اور جانچ درکار ہوگی۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی