
سائنس دانوں نے نظام شمسی کے ابتدائی دور سے متعلق ایک اہم سوال کا جواب تلاش کر لیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق ابتدائی نظام شمسی میں شدید حرارتی واقعات یعنی آگ کے اثرات زیادہ نمایاں تھے۔ ییل یونیورسٹی کے شعبہ ارضی و سیاروی علوم کے اسسٹنٹ پروفیسر دمن ویر گریوال اور ان کے ساتھی محققین نے اس موضوع پر تحقیق کی ہے۔ تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے دو اقسام کے مادوں کا جائزہ لیا جن میں کونڈرولز اور میٹرکس شامل ہیں۔ کونڈرولز انتہائی درجۂ حرارت کے باعث بننے والے چھوٹے پتھریلے ذرات ہیں، جبکہ میٹرکس نرم اور گرد آلود مادے پر مشتمل ہوتا ہے جس میں پانی کے برف جیسے بخارات بن جانے والے اجزا بھی شامل ہوتے ہیں۔ کونڈرولز اس وقت وجود میں آئے جب خلا میں موجود گرد کے ذرات کو شدید حرارتی لہروں یا طاقتور جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ذرات پگھل کر مائع قطروں میں تبدیل ہوئے اور پھر تیزی سے ٹھنڈے ہو کر ننھے پتھریلے ذرات بن گئے۔ سائنس دانوں کو پہلے ہی معلوم تھا کہ نظام شمسی کے وجود میں آنے کے تقریباً 20 لاکھ سے 40 لاکھ سال بعد کونڈرولز کی شکل میں شدید حرارت کے آثار نمایاں تھے۔ تاہم نئی تحقیق میں اس سے بھی پہلے یعنی نظام شمسی کے پہلے 10 لاکھ سال پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ تحقیق کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ نظام شمسی کی تشکیل کے بالکل ابتدائی مرحلے میں بھی شدید حرارتی واقعات نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نظام شمسی کے ابتدائی ماحول اور اس میں موجود مادے کے ارتقا کو سمجھنے میں نہایت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
News Source: Express News