پتھر سے سر کچل کر بہیمانہ قتل، ملزم چوبیس سال تک پولیس کو کیسے چکمہ دیتا رہا؟

News Image

نیی دہلی میں سن دو ہزار دو میں ایک شخص کا سر پتھروں سے کچل کر قتل کرنے والا ملزم تقریباً چوبیس سال تک پولیس کو چکمہ دینے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اٹھتالیس سالہ فیروز عرف خواجہ کو دہلی پولیس کی کرایم برانچ نے گروگرام کے آیی ایم ٹی مانسیر میں قایم ریڈی میڈ گارمنٹس فیکٹری سے گرفتار کیا جہاں بھیس بدل کر گزشتہ دو سال سے درزی کے طور پر کام کر رہا تھا۔ پولیس نے اس دل دہلا دینے والے کیس سے متعلق بتایا کہ اٹھارہ فروری سن دو ہزار دو کو تغلق آباد قلعے کے قریب ڈی ڈی اے کے جنگلات سے تقریباً پینتیس سالہ شخص کی انتہایی بوسیدہ لاش ملی تھی۔ لاش پر بڑے بڑے پتھر رکھے گیے تھے جبکہ سر بھی پتھروں سے بری طرح کچلا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران مقتول کی شناخت بہار کے رہایشی کلام انصاری کے طور پر ہویی تھی لیکن قاتل فرار تھا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مقتول سن دو ہزار ایک میں روزگار کے لیے فیروز نامی شخص کے ساتھ دہلی آیا تھا۔ فیروز کے بھایی کا مقتول کلام انصاری کے گاوں کی ایک خاتون سے تنازع چل رہا تھا۔ بعد ازاں فیروز کے بھایی نے کلام انصاری کے گھر کے سامنے خودکشی کر لی تھی اور فیروز اس کا ذمہ دار فیروز کو سمجھتا تھا، انتقام لینے کے لیے ہی قتل کی سازش رچی تھی۔ فیروز پندرہ فروری سن دو ہزار دو کو کلام انصاری کو تغلق آباد کے جنگل میں لے گیا اور پتھروں سے اس کا سر کچل کر قتل کر دیا۔ قتل کی واردات انجام دینے کے بعد فیروز بہار فرار ہو گیا اور کلام انصاری کے بارے میں گمراہ کن معلومات دیتا رہا اور پھر غایب ہو گیا۔ خود اپنے دام میں صیاد آ گیا کے مصداق فیروز اپنے آبایی علاقے لوٹا تو کسی نے دیکھ لیا اور پولیس کو اطلاع دی، تاہم پولیس کے پہنچنے تک وہ واپس چلا گیا تھا۔ جس پر کرایم برانچ نے مسلسل تلاش جاری رکھی اور دو ماہ میں تقریباً تیس چھاپے مارے۔ بالآخر اس فیکٹری تک پہنچ گیی جہاں ملزم درزی کا کام کرتا تھا۔



News Source: Express News

جدید تر اس سے پرانی